بزمِ وجود ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر گواہ ہے
باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے
عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے
ہر شخص محبت کی دولت رکھنے والا نہیں
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں
یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں)
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی
اے دل! توکب پروانے کی سی نادانی اختیار کیے رکھے گا؟
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالے کی جناب میں عرض کی
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے
دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا
اے فخر سے پرواز کرتی نئی روح!
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے
اے دل، میرے دل، تو اُس کی راہ پر چل پڑا ہے!
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ
جو تجھے اپنا آپ بھلا دے
تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا
ہونے اور نہ ہونے کے چکر سے نکل
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں
اگر خدا نے تیرے بدن میں
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں
جب مجھے نغمے کا ذوق جلوت میں لاتا ہے
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے
عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا
گرجا، مسجد، مندر اور آتشکدہ
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا
پرانے شرابی کو دوبارہ ہوش میں لے آئی
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے؟
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں )
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا
پانی کا قطرہ جب اندر سے چمک اٹھتا ہے
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں
ساحل پر بزم آراستہ نہ کر
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل
میں کیا کہوں کہ خیر و شر کیا ہے
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا
ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے
کیسے اے آسمان پر گردش کرنے والے آفتاب
اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا
دل ایسا مسافر ہے جو منزل کو پسند نہیں کرتا
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں
اے دل! حیات کا راز کلی سے سمجھ
اللہ تعالیٰ کا نور باغ و صحرا میں پھیلا ہوا ہے
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا
جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا
جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ
جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں
میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں
میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی
عجم میرے نغموں سے جوان ہو گیا
میرے نغمے سے عجم کے دل میں آگ بھڑک اٹھی ہے
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے
مجھے صبح کی تازہ ہوا کی مانند آزاد رو بنایا گیا ہے
عقل ایک معمولی کپڑے کو اطلس بنا دیتی ہے
میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں
میرا تخیل جو بہشت سے پھول چنتا ہے
عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا
مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی
اس مشت غبار (انسان) سے نا امید نہ ہو
بے شک یہ جہانِ رنگ بو اس قابل ہے کہ اسے سمجھا جائے
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے
میرا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے
میرے سوز سے مسلمان کی رگوں میں خون تڑپ رہا ہے
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا
ہر دل میں عشق ننے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے
ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا
ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے
بالاخر اقبال نے عقل چالاک کو چھوڑ دیا