صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۱۵۶

تو می گوئی که من هستم خدا نیست

تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے

You claim that I exist, and God does not preside

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے —

یہ دنیا لا انتہا ہے (یہ کبھی ختم نہیں ہو گی)۔

You claim that I exist, and God does not preside —

That this world of clay and water has no end in sight.

شعر ۲

مگر مجھ پر ابھی تک یہ راز ہی نہیں کھلا —

کہ میری آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ ہے بھی یا نہیں!

Yet this mystery remains, a secret tightly wound —

Is what my eyes behold truly there, or mere illusion found?

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۶

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں