بزمِ وجود ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر گواہ ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱، علامہ اقبالؒ
باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲، علامہ اقبالؒ
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳، علامہ اقبالؒ
عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴، علامہ اقبالؒ
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵، علامہ اقبالؒ
ہر شخص محبت کی دولت رکھنے والا نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶، علامہ اقبالؒ
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷، علامہ اقبالؒ
یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸، علامہ اقبالؒ
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹، علامہ اقبالؒ
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰، علامہ اقبالؒ
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں)
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱، علامہ اقبالؒ
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲، علامہ اقبالؒ
اے دل! توکب پروانے کی سی نادانی اختیار کیے رکھے گا؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳، علامہ اقبالؒ
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴، علامہ اقبالؒ
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵، علامہ اقبالؒ
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالے کی جناب میں عرض کی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۶، علامہ اقبالؒ
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۷، علامہ اقبالؒ
دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۸، علامہ اقبالؒ
اے فخر سے پرواز کرتی نئی روح!
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۹، علامہ اقبالؒ
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۰، علامہ اقبالؒ
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۱، علامہ اقبالؒ
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۲، علامہ اقبالؒ
اے دل، میرے دل، تو اُس کی راہ پر چل پڑا ہے!
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۳، علامہ اقبالؒ
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۴، علامہ اقبالؒ
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۵، علامہ اقبالؒ
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۶، علامہ اقبالؒ
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۷، علامہ اقبالؒ
جو تجھے اپنا آپ بھلا دے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۸، علامہ اقبالؒ
تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۲۹، علامہ اقبالؒ
ہونے اور نہ ہونے کے چکر سے نکل
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۰، علامہ اقبالؒ
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۱، علامہ اقبالؒ
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۲، علامہ اقبالؒ
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۳، علامہ اقبالؒ
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۴، علامہ اقبالؒ
اگر خدا نے تیرے بدن میں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۵، علامہ اقبالؒ
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۶، علامہ اقبالؒ
جب مجھے نغمے کا ذوق جلوت میں لاتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۷، علامہ اقبالؒ
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۸، علامہ اقبالؒ
عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۳۹، علامہ اقبالؒ
گرجا، مسجد، مندر اور آتشکدہ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۰، علامہ اقبالؒ
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۱، علامہ اقبالؒ
پرانے شرابی کو دوبارہ ہوش میں لے آئی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۲، علامہ اقبالؒ
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۳، علامہ اقبالؒ
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۴، علامہ اقبالؒ
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۵، علامہ اقبالؒ
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۶، علامہ اقبالؒ
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۷، علامہ اقبالؒ
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۸، علامہ اقبالؒ
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۹، علامہ اقبالؒ
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۰، علامہ اقبالؒ
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۱، علامہ اقبالؒ
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۲، علامہ اقبالؒ
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۳، علامہ اقبالؒ
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۴، علامہ اقبالؒ
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۵، علامہ اقبالؒ
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں )
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۶، علامہ اقبالؒ
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۷، علامہ اقبالؒ
پانی کا قطرہ جب اندر سے چمک اٹھتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۸، علامہ اقبالؒ
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۵۹، علامہ اقبالؒ
ساحل پر بزم آراستہ نہ کر
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۰، علامہ اقبالؒ
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۱، علامہ اقبالؒ
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۲، علامہ اقبالؒ
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۳، علامہ اقبالؒ
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۴، علامہ اقبالؒ
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۵، علامہ اقبالؒ
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۶، علامہ اقبالؒ
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۷، علامہ اقبالؒ
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۸، علامہ اقبالؒ
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۹، علامہ اقبالؒ
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۰، علامہ اقبالؒ
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۱، علامہ اقبالؒ
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۲، علامہ اقبالؒ
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۳، علامہ اقبالؒ
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۴، علامہ اقبالؒ
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۵، علامہ اقبالؒ
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۶، علامہ اقبالؒ
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۷، علامہ اقبالؒ
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۸، علامہ اقبالؒ
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۹، علامہ اقبالؒ
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۰، علامہ اقبالؒ
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۱، علامہ اقبالؒ
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۲، علامہ اقبالؒ
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۳، علامہ اقبالؒ
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۴، علامہ اقبالؒ
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۵، علامہ اقبالؒ
میں کیا کہوں کہ خیر و شر کیا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۶، علامہ اقبالؒ
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۷، علامہ اقبالؒ
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۸، علامہ اقبالؒ
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۹، علامہ اقبالؒ
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۰، علامہ اقبالؒ
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۱، علامہ اقبالؒ
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۲، علامہ اقبالؒ
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۳، علامہ اقبالؒ
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۴، علامہ اقبالؒ
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۵، علامہ اقبالؒ
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۶، علامہ اقبالؒ
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۷، علامہ اقبالؒ
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۸، علامہ اقبالؒ
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۹۹، علامہ اقبالؒ
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۰، علامہ اقبالؒ
ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۱، علامہ اقبالؒ
کیسے اے آسمان پر گردش کرنے والے آفتاب
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۲، علامہ اقبالؒ
اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۳، علامہ اقبالؒ
دل ایسا مسافر ہے جو منزل کو پسند نہیں کرتا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۴، علامہ اقبالؒ
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۵، علامہ اقبالؒ
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۶، علامہ اقبالؒ
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۷، علامہ اقبالؒ
اے دل! حیات کا راز کلی سے سمجھ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۸، علامہ اقبالؒ
اللہ تعالیٰ کا نور باغ و صحرا میں پھیلا ہوا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۹، علامہ اقبالؒ
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۰، علامہ اقبالؒ
جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۱، علامہ اقبالؒ
جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۲، علامہ اقبالؒ
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۳، علامہ اقبالؒ
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۴، علامہ اقبالؒ
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۵، علامہ اقبالؒ
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۶، علامہ اقبالؒ
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۷، علامہ اقبالؒ
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۸، علامہ اقبالؒ
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۱۹، علامہ اقبالؒ
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۰، علامہ اقبالؒ
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۱، علامہ اقبالؒ
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۲، علامہ اقبالؒ
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۳، علامہ اقبالؒ
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۴، علامہ اقبالؒ
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۵، علامہ اقبالؒ
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۶، علامہ اقبالؒ
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۷، علامہ اقبالؒ
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۸، علامہ اقبالؒ
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۲۹، علامہ اقبالؒ
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۰، علامہ اقبالؒ
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۱، علامہ اقبالؒ
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۲، علامہ اقبالؒ
جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۳، علامہ اقبالؒ
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۴، علامہ اقبالؒ
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۵، علامہ اقبالؒ
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۶، علامہ اقبالؒ
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۷، علامہ اقبالؒ
میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۸، علامہ اقبالؒ
میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۹، علامہ اقبالؒ
عجم میرے نغموں سے جوان ہو گیا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۰، علامہ اقبالؒ
میرے نغمے سے عجم کے دل میں آگ بھڑک اٹھی ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۱، علامہ اقبالؒ
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۲، علامہ اقبالؒ
مجھے صبح کی تازہ ہوا کی مانند آزاد رو بنایا گیا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۳، علامہ اقبالؒ
عقل ایک معمولی کپڑے کو اطلس بنا دیتی ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۴، علامہ اقبالؒ
میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۵، علامہ اقبالؒ
میرا تخیل جو بہشت سے پھول چنتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۶، علامہ اقبالؒ
عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۷، علامہ اقبالؒ
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۸، علامہ اقبالؒ
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۴۹، علامہ اقبالؒ
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۰، علامہ اقبالؒ
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۱، علامہ اقبالؒ
مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۲، علامہ اقبالؒ
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۳، علامہ اقبالؒ
اس مشت غبار (انسان) سے نا امید نہ ہو
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۴، علامہ اقبالؒ
بے شک یہ جہانِ رنگ بو اس قابل ہے کہ اسے سمجھا جائے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۵، علامہ اقبالؒ
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۶، علامہ اقبالؒ
میرا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۷، علامہ اقبالؒ
میرے سوز سے مسلمان کی رگوں میں خون تڑپ رہا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۸، علامہ اقبالؒ
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۹، علامہ اقبالؒ
ہر دل میں عشق ننے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۶۰، علامہ اقبالؒ
ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۶۱، علامہ اقبالؒ
ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۶۲، علامہ اقبالؒ
بالاخر اقبال نے عقل چالاک کو چھوڑ دیا
پیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۶۳، علامہ اقبالؒ