نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی
I do not seek the beginning or the end
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —
میں خود سراپا راز ہوں اور رازوں ہی کے جہان کو تلاش کرتا ہوں ۔
I do not seek the beginning or the end —
I am full of mystery and seek the realm of mysteries.
اگر وہ حقیقت کے چہرے سے پردہ ہٹا بھی دیں —
تو میں پھر بھی شکوک و شبہات کو متلاشی رہوں گا۔
Even if the face of truth was unveiled —
I would still seek the same doubts and uncertainties.