صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۸۳

نه افغانِیم و نَی ترک و تتاریم

ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری

Neither Afghan, Turk, nor Tatar are we

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —

ہم تو چمن کی آل ہیں اور ایک ہی شاخ سے ہیں.

Neither Afghan, Turk, nor Tatar are we —

Born of one garden, from the same branch, a single tree.

شعر ۲

رنگ اور بو کی تفریق ہم پر حرام ہے —

کیونکہ ہم ایک ہی بہار (اسلام) کے پالے ہوئے ہیں۔

Racial discrimination is forbidden to our kind —

Nurtured by one spring (of Islam), in its unity we're entwined.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۳

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں