زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟
O God, what joy is there in mere existence or being?
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —
ہر ذرے کا دل اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بیتاب ہے ۔
O God, what joy is there in mere existence or being? —
Every atom's heart yearns to reveal its true being.
جب کلی شاخ کو پھاڑ کر سامنے آتی ہے —
تو ذوق نمود (کی تسکین) سے مسکرا رہی ہوتی ہے۔
When the bud bursts forth from the branch’s hold —
It smiles, fulfilling its desire to unfold.