فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں
Though philosophers have shattered countless forms they've sought
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں —
لیکن وہ ابھی تک ہست و بود کے سومنات میں پڑے ہیں۔
Though philosophers have shattered countless forms they've sought —
In the Somnath of existence, still they're caught.
وہ فرشتے اور خدا کو کیسے اپنے فکر کی گرفت میں لا سکتے ہیں —
جب کہ انہوں نے ابھی تک آدم کو بھی اپنے شکاربند میں نہیں باندھا۔
How can they capture angels and God in their thought —
When even Adam escapes the snares they've wrought?