عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں
Reason has woven veils over your face
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں —
اور میری نگاہیں دیدار کی پیاسی رہتی ہیں ۔
Reason has woven veils over your face —
Yet my gaze remains thirsty for a glimpse of Your grace.
ہر لمحہ عقل اور شوق میں جنگ رہتی ہے —
تو نے میری گری پڑی کمزور جان میں کیسا فتنہ ڈال رکھا ہے ۔
In every moment, a battle rages between thought and desire —
What turmoil You've cast in my soul, a fragile, smoldering fire.