اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں
Beneath the veil, in all Your majestic splendor
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —
(شاید) ہماری شوق بھری نگاہوں کی تاب نہیں لاسکتے ۔
Beneath the veil, in all Your majestic splendor —
Our eager looks, it seems, You cannot weather.
(آپ کی محبت) ہمارے خون کے اندر شراب کی مستی کی مانند سرایت کیے ہوئے ہے —
لیکن پھر بھی آپ بیگانہ خو ہیں اور بڑی دیر سے ملتے ہیں۔
You surge within our blood like wine's deep haze —
Yet remain a stranger, found in the rarest ways.