اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے
If you seek the phoenix of knowledge in your snare
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے —
تو یقین کم کر، ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ ۔
If you seek the phoenix of knowledge in your snare —
Lessen your certainties, view each thing with a questioning air.
اگر عمل چاہتا ہے، تو اپنا یقین پختہ کر —
ایک مقصود کے پیچھے لگ جا، اسی پر نظر رکھ اور وہی ہو جا۔
Desire action? Make your belief more profound —
Pursue a single goal, observe it closely, become it, in it be found.