منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر
Forget the goal, be steadfast on the endless quest
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
(البتہ دوران سفر ) اپنی نگاہ کو سورج چاند کی طرح پاک رکھ ۔
Forget the goal, be steadfast on the endless quest —
Keep your gaze as pure as the sun and moon's crest.
عقل و دین کا سرمایہ دوسروں کے لیے رہنے دے —
ہاں ، غم عشق ہاتھ آ جائے تو اسے سنبھال کے رکھ ۔
Leave the wealth of wisdom and faith for others' embrace —
Yet if Divine love’s sorrow finds you, hold it with tender grace.