صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۱۳۹

نوا مستانه در مَحفل زدم من

میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی

In the great throng so rapturous I did play

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی —

اور اس سے مٹی (خاکی انسان) پر زندگی کا شرر ڈالا۔

In the great throng so rapturous I did play —

I struck the spark of Life out of their clay.

شعر ۲

میں نے دل کو عقل کے نور سے روشنی دی —

اور عقل کے لیے دل کو معیار بنایا۔

I lit the heart with the mind’s radiance —

And probed the mind against the heart’s assay.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۹

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں