سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے
Alexander and his flag and sword are gone
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے —
شہروں سے وصول کیا ہوا خراج ، کان سے نکالا ہوا خزانہ اور سمندر سے حاصل کئے ہوئے موتی سب گئے۔
Alexander and his flag and sword are gone —
Gone are his tribute and his mines and seas.
قوموں کو پادشاہوں سے زیادہ پائیندہ سمجھ —
کیا تو دیکھتا نہیں کہ ایران باقی ہے جب کہ جمشید ختم ہو چکا ہے۔
Longer than kings’ are peoples’ histories —
Jamshid is gone, but Persia still lives on.