تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے
You seek new paths to the stars in the sky
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے —
مگر اپنے آپ سے نا آشنا ہے۔
You seek new paths to the stars in the sky —
Yet, a stranger to your own identity,
دانہ کی مانند ذرا اپنے آپ پر بھی آنکھ کھول —
تا کہ زمین کے نیچے سے درخت بن کر نکلے۔
Open your eyes to yourself like a seed —
So that you come out of the earth a tree.