وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا
Unfamiliar with loyalty, alien in its ways
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
اس کی نگاہ کسی اور کی جستجو میں بے قرار تھی ۔
Unfamiliar with loyalty, alien in its ways —
Its gaze restless, in pursuit of another's gaze.
جب اسے دیکھا ، تو میرے سینے سے اڑ کر نکل گیا —
مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ اس کے ہاتھ کا سدھایا ہوا ( پرندہ ) تھا ۔
When it saw, it flew from my chest on a whim —
Unaware was I, my heart was tamed by another's limb.