صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۶۴

وفا ناآشنا بیگانه خو بود

وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا

Unfamiliar with loyalty, alien in its ways

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —

اس کی نگاہ کسی اور کی جستجو میں بے قرار تھی ۔

Unfamiliar with loyalty, alien in its ways —

Its gaze restless, in pursuit of another's gaze.

شعر ۲

جب اسے دیکھا ، تو میرے سینے سے اڑ کر نکل گیا —

مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ اس کے ہاتھ کا سدھایا ہوا ( پرندہ ) تھا ۔

When it saw, it flew from my chest on a whim —

Unaware was I, my heart was tamed by another's limb.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۶۴

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں