صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۱۰۷

ز آغاز خودی کس را خبر نیست

خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں

No soul knows whence the Khudi first came

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —

خودی شام و سحر کے حلقے میں نہیں سماتی۔

No soul knows whence the Khudi first came —

Nor does it rest in dawn or dusk's frame.

شعر ۲

میں نے یہ نادر نکتہ خضر (علیہ السلام) سے سنا ہے —

کہ بحر اپنی موج سے قدیم تر نہیں۔

This rare truth from Khidr I discern —

The sea is not older than the waves that churn.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۰۷

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں