صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۱۶۱

هنوز از بند آب و گل نرستی

ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا

Still bound by water and clay's constraint

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا —

تو کہتا ہے کہ میں رومی ہوں، میں افغانی ہوں۔

Still bound by water and clay's constraint —

You call yourself Rumi, and Afghan by claim.

شعر ۲

میں پہلے بے رنگ و بو (محض انسان) ہوں —

اس کے بعد ہندی یا تورانی ہوں۔

I am the primordial Adam, without hue or scent —

Then I became Indian and Turanian, as the ages went.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۶۱

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں