ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے
Our world, whose existence is as good as non-existent
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —
یہاں فوائد بڑھنے کے ساتھ نقصان کا بڑھنا لازم وملزوم ہے۔
Our world, whose existence is as good as non-existent —
Here, with the increase of benefits, the rise of loss is inevitable.
یہ پرانا ہو چکا ہے، اس کی بنیاد از سر نو اٹھا کر اسے نیا کر —
ہمارا دل اس سلسلے میں دیر سویر کی تاب نہیں رکھتا۔
This has grown old, lift its foundation anew and renew it —
Our heart can bear no delay in this matter.