صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۴۴

خرد زَنجیری امروز و دوش است

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے

To past and present reason is a slave

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —

آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے. (حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے)

To past and present reason is a slave —

It worships images of the eye and ear.

شعر ۲

اپنی آستین میں بت چھپائے ہوئے ہے —

یہ زنّار پوش کسی برہمن کی اولاد (معلوم ہوتی) ہے۔

It always has an idol up its sleeve —

It is a Brahmin bred and born, beware

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۴۴

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں