عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے
To past and present reason is a slave
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —
آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے. (حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے)
To past and present reason is a slave —
It worships images of the eye and ear.
اپنی آستین میں بت چھپائے ہوئے ہے —
یہ زنّار پوش کسی برہمن کی اولاد (معلوم ہوتی) ہے۔
It always has an idol up its sleeve —
It is a Brahmin bred and born, beware