صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۱۳۸

مرا از پردهٔ ساز آگهی نیست

میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں

I do not know the instrument or key

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں —

مگر میں یہ جانتا ہوں کہ نغمہ حیات کیا ہے

I do not know the instrument or key —

Yet well I recognize Life’s melody.

شعر ۲

میں نے درختوں پر بیٹھ کر اس طرح گیت گایا —

کہ پھول، باغ کے پرندے سے پوچھنے لگا کہ یہ کون ہے؟

So sang I in the brambles —

That the rose asked of the thrush, ‘What caroller is he?’

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۳۸

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں