(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے
In the instrument of my soul, the melody is from Your touch
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —
آپ کس طرح میری جان کے اندر بھی ہیں اور جان سے باہر بھی ۔
In the instrument of my soul, the melody is from Your touch —
How are You within my being and beyond it just as much?
میں چراغ ہوں تیرے حضور جلتا ہوں ۔ تیرے بغیر میری روشنی بجھ جاتی ہے —
اے میرے بے مثال (مولا) ، تو میرے بغیر کیسے ہے؟
I am a lamp; with You, I burn, without You, I fade —
Oh my peerless Lord, how are You, when I'm unmade?