میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے
I spread my wings across eternity's vast expanse
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —
میں آب و گل کے بندھن سے آزاد تھا۔
I spread my wings across eternity's vast expanse —
Freed from the bonds of water and clay's dance.
آپ کی نظر میں میری قیمت گراں تھی —
اسی لیے آپ مجھے بازار وجود میں لے آئے۔
In your eyes, my worth was high, immense —
Thus, you brought me to existence's market, hence.