صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۸۱

کِرا جوئی، چِرا در پیچ و تابی

تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے

Whom do you seek, why twist and turn in quest

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —

کہ وہ (تو) ظاہر ہے (البتہ) تو خودے پردے میں ہے۔

Whom do you seek, why twist and turn in quest —

When He is evident, yet you're hidden in your own chest.

شعر ۲

اس کی تلاش کرے گا (تو) اپنے سوا کچھ اور نہ دیکھے گا —

اپنی تلاش کرو گے (تو) اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں لاوَ گے۔

In seeking Him, you'll see naught but your own face —

In seeking yourself, Him alone you'll embrace.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۸۱

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں