تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے
Whom do you seek, why twist and turn in quest
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —
کہ وہ (تو) ظاہر ہے (البتہ) تو خودے پردے میں ہے۔
Whom do you seek, why twist and turn in quest —
When He is evident, yet you're hidden in your own chest.
اس کی تلاش کرے گا (تو) اپنے سوا کچھ اور نہ دیکھے گا —
اپنی تلاش کرو گے (تو) اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں لاوَ گے۔
In seeking Him, you'll see naught but your own face —
In seeking yourself, Him alone you'll embrace.