اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال
Do not bind your own steps with destiny's chain
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
اس (گردش کرتے) آسمان سے نکلنے کا راستہ موجود ہے ۔
Do not bind your own steps with destiny's chain —
For beyond this whirling sky, freedom's path remains plain.
اگر اعتبار نہیں تو اٹھ (کوشش کر) اور اس راستے کو پا لے —
جب تو قدم اٹھائے گا تو (دیکھے گا) کہ میدان موجود ہے ۔
If in disbelief you linger, stand and earnestly explore —
Discover as you stride, an open field, an endless door.