صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۷۶

بپای خود مزن زَنجیر تقدیر

اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال

Do not bind your own steps with destiny's chain

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —

اس (گردش کرتے) آسمان سے نکلنے کا راستہ موجود ہے ۔

Do not bind your own steps with destiny's chain —

For beyond this whirling sky, freedom's path remains plain.

شعر ۲

اگر اعتبار نہیں تو اٹھ (کوشش کر) اور اس راستے کو پا لے —

جب تو قدم اٹھائے گا تو (دیکھے گا) کہ میدان موجود ہے ۔

If in disbelief you linger, stand and earnestly explore —

Discover as you stride, an open field, an endless door.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۷۶

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں