تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟
Why ask where I'm from or what I am?
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —
میں اپنے گرد گھومتا ہوں تاکہ زندہ رہ سکوں ۔
Why ask where I'm from or what I am? —
Entwined in my being, that's how I stand.
زندگی کے اس سمندر میں ایک بے چین موج کی طرح ہوں —
اگر میں اپنے آپ سے وابستہ نہ رہوں تو میری ہستی ختم ہوجاتی ہے۔
In life's vast sea, a restless wave am I —
If not curled in myself, I cease and die.