صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. پیام مشرق
  4. لالۂ طور
  5. رباعی ۱۵۲

بجانِ من که جان، نقشِ تن انگیخت

مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا

By my soul, which shaped the body's guise

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: رباعی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲ اشعار
شعر ۱

مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا —

جلوہ گری کی ہوس نے اس پھول کو دو رنگا بنا دیا۔

By my soul, which shaped the body's guise —

Desire for display made this rose don dual dyes.

شعر ۲

جان بیتاب کے ہزاروں رنگ ہیں —

مگر جب اس نے ایک رنگ اختیار کیا تو تن بن گیا۔

The restless soul dons a thousand forms anew —

Yet content with one, it turns to flesh in view.

۲ اشعارپیام مشرق، لالۂ طور، رباعی ۱۵۲

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں