نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا
From the soil of the narcissus field, a bud arose
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا —
اور شبنم نے اس کی آنکھ سے نیند کا اثر دھو ڈالا ۔
From the soil of the narcissus field, a bud arose —
Its eyes cleansed of sleep by the dew's gentle hose.
بے خودی سے خودی ظاہر ہوئی —
اور جہان نے آخر وہ چیز پا لی جس کی وہ تلاش میں تھا۔ (میلاد آدم کی طرف اشارہ ہے)
From selflessness, the self came to appear —
At last, the world found what it sought so dear.