نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا
Thus spoke the new-sprung blossom to the dew:
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: رباعی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا —
ہم چمن میں پیدا ہونے والوں کی نگاہ حقیقت تک نہیں پہنچتی ( تو جو آسمان سے ٹپکتی ہے تو ہمیں بتا)۔
Thus spoke the new-sprung blossom to the dew: —
‘We meadow children have no piercing eye:
کہ اس وسعت میں جہاں سینکڑوں سورج ہیں —
پست و بالا کا فرق ہے یا نہیں ہے۔
In this broad plain that holds a hundred suns —
Class distinction exists between low and high?’