باب
یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔
Tumultuous Love where’er it rove unto Thy street is brought; what boasteth he who findeth Thee that for himself he sought?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 1
ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔
The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 2
اقبال اس شعر میں ربِ ذوالجلال سے عرض کرتے ہیں کہ غزل گوئی کا وہ انداز اور سُرتال کا وہ اسلوب جو کبھی مسلم قوم میں موجود تھا اُسے پھر سے زندہ کر دے ۔ افسردہ اور غم زدہ دلوں کو مسرتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے کوئی شگفتہ کلام لے کر آ ۔ تا کہ مسلمانوں کی زندگی میں پھر سے عروج کی حرارت پیدا ہو جائے ۔
O bring me back the singing, the airs of long ago; bring back the sweet, sad music to set cold hearts aglow.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 3
اے خدا تو نے میری آہ و زاری کو میری شاعری کی وجہ سے بڑھا دیا ہے ۔ میری اس آواز سے ہزاروں سال کی پرانی مٹی کو زندہ کر دے ۔ مطلب یہ کہ مسلمان اس مادہ پرست دنیا میں گم ہو کر اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔ وہ اپنی پہچان صرف اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے دل میں تیری محبت پیدا ہو جائے ۔
Thou who didst make more ardent my sighing and my tears, O let my anthem quicken dust of a thousand years.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 4
اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔
From my handful of dust You draw out a hundred laments; you are nearer than the soul – for all Your shy reserve.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 5
میں اگرچہ سیاہ مٹی ہوں یعنی ایک خاکی جسم ہوں لیکن اس خاکی جسم کے اندر جو ایک چھوٹا سا دل ہے وہی میرا سازوسامان ہے ۔ یہ دل جب روشن ہو جاتا ہے تو سارا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اے خدا میں تیرے حسن کے نظارہ کے لیے ایک ستارے کی طرح آنکھیں کھلی رکھتا ہوں ۔
Though dust, and dark as dust, am I, I have a little heart, whereby with vision open as a star I gaze on beauty from afar.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 6
میں نے اپنی دردمند اور دل پذیر آواز یعنی شاعری کے ذریعے زندگی کی شراب کا مٹکا دنیا کے لیے کھول دیا ہے یعنی جذبہَ عشق ان لوگوں تک پہنچا دیا ہے جو اس سے آشنا نہیں تھے ۔
With a song of agony, with a sweet, soft melody, to a dying world athirst Lo: life’s flagon I have burst.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 7
اے خدا اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام نچھاور کر اور اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹا دے ۔ کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیے ہے ۔ جب تیرے چہرے کے انوار و تجلیات مومن دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہو گا اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے
On faith and infidelity O scatter wide Thy Clemency; at last the veil of darkness raise from the full splendour of Thy Face.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 8
میری فریاد سوزِ غم سے بھری ہوئی ، بے خوف اور غم اُبھارنے والی ہے ۔ کیونکہ میرے حسن و خاشاک میں چنگاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے ۔ (اس تیز ہوا سے آگ بھڑک اٹھے گی اور مجھے ہر آلائش سے پاک کر دے گی) ۔
A flame is in my minstrelsy, a fearlessness, a tragedy; a spark is smouldering in my corn, and sprightly blows the breath of morn.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 9
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
The eyes and heart that I have take such delight in view – what is my fault if I should carve idols out of rough stone?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 10
اگرچہ عقل کا شاہین اڑان کے لیے تیار ہے لیکن اس بیابان میں ایک تیر انداز بھی پوشیدہ ہے جو اسے آسانی سے شکار کر لیتا ہے ۔ عشق کی جہاں تک رسائی ہوتی ہے وہاں عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔
Though the falcon of the brain yearneth on the wing to be, archers in this desert plain wait upon him secretly!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 11
اس جہان کی حقیقت کیا ہے یہ میرے تصور یا احساس کا بت خانہ ہے ۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ دراصل یہ میرے تصورات اور احساسات کی دنیا ہے ۔ اس کی حقیقت میری بیدار آنکھ کی مر ہون منت ہے ۔
What is the world? The temple of my thought, the seen projection of my wakeful eye;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 12
جب بہار کا موسم اتنا دلکش ہو اور بلبلیں گیت گا رہی ہوں تو ایسے میں تو بھی (اے محبوب) اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس خوشگوار ماحول کے مطابق شراب وصل پلا دے ۔
It is the season of the spring and nightingales are carolling; O smile on me, and chant a song, and freely pass the wine along.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 13
مجھے موت و حیات کی کشمکش سے میرا مقامِ رضا باہر نکال لایا ۔ میرے اس مقام رضا نے میرے کیسے کیسے مسائل حل کر دیے ہیں ۔
From life and being’s twisted skein let me be free; in resignation is to gain true liberty.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 14
اٹھ اور پیاسی مٹی (آدمی کے خاکی جسم) پر زندگی کی شراب چھڑک دے کیونکہ اس خاکی جسم کے لیے عشق کی شراب تریاق کا کام دے گی ۔ اے خدا تو اپنے عشق کی آگ اس جسم خاکی میں تیز کر دے اور میرے نفس کی آگ ٹھنڈی کر دے ۔
Rise! And upon the thirsty land sprinkle life’s wine with lavish hand; kindle anew the spirit’s fire, and bid the flame in us expire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 15
مجھے مصروفِ طواف کعبہ دیکھ کر اگر تو یہ سمجھ رہا ہے کہ شاید طواف کعبہ ہی میرا اصل مقصد ہے تو تیرا یہ گمان غلط ہے ۔ میرا اصل مقصد تو خدا کا قرب حاصل کرنا ہے طواف کعبہ تو صرف ایک ذریعہ ہے ۔
Thinkest Thou that to the threshold I have made this pilgrimage? With the master of the household I have business to engage.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 16
میرا محبوب گھوڑے پر سوا ہو کر راستہ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والے عشاق پر نظر ڈالے بغیر گزر رہا ہے ۔ اے دوستو! مجھ تھام لو کہ میرا دل اب میرے قابو میں نہیں رہا (شراب عشق کے باعث مجھ پر نشہ طاری ہو رہا ہے) ۔
With a glance at us who sit by the way He goes riding by: Conceive, if Thou canst, my soul’s dismay sore distraught am I.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 17
آسمان تک رسائی حاصل کرنے والی عقل پر ترکوں کی طرح شبخون مارنا ہی اچھا ہے یعنی اسے عشق کے آگے سرنگوں کرنا ضروری ہے کیونکہ دردِ عشق کا ایک ذرہ عظیم فلسفی افلاطون کے علم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
Better is the robbers’ train than the heaven-pacing brain, better one distress of heart than all Plato’s learned art.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 18
اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔
Either do not tell the Muslim to put his life at risk, or else breathe a new soul into this worn-out frame. Do one thing or the other!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 19
عقل بھی عشق کی مانند ہے اور وہ ذوقِ نظر سے انجان نہیں ہے ۔ لیکن اس بے چاری کے پاس وہ ہمت و دلیری نہیں جو عشق کو حاصل ہے ۔
Intellect is passion too, and it knows the joy to view, but the poor unfortunate dares not as the inebriate.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 20
اس زندگی میں حرارت و گداز تیری تلاش کی لذت کے باعث ہے ۔ اگر میں تیری طرف سفر اختیار نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے ۔
All that in life I love the best is the sweet fever of Thy quest; the way is like an adder’s sting, be not to thee my wayfaring.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 21
اس بزم ِ جہاں میں ساقی رہے اور نہ ہی میکش اس کا کام شراب و ساقی سے گزر گیا ہے ۔ ایسا دوست اب کہاں ہے کہ میں بچی ہوئی شراب اس کے جام میں انڈیل دوں ۔ مجھے تو کوئی اپنے اسلاف کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا ۔
The night grows late, the route is up, no need for saki now or cup; pass me Thy goblet, friend of mine, I’ll pour thee the remaining wine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 22
اے ساقی میرے جگر پر نم آلود شعلہ پھینک ۔ یعنی مجھے شراب عشق پلا کر میرے اس مٹھی بھر جسم میں اپنے عشق کا شور قیامت بر پا کر دے ۔
Saki, on my heart bestow liquid flame with living glow; let the resurrection day dawn tremendous on my clay.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 23
اے خدا مجھے اس پانی (شرابِ عشق) سے صراحی یا بڑا پیالہ عطا کردے جو میرے سینے میں لالہ کے پھول کھلا دے ۔ یعنی وہ شراب عشق جو میرے دل میں امنگوں کو بیدار کر دے ۔ اے ساقی دوراں میرے اس مٹھی بھر جسم کو بہار کی ہوا کے سپرد کر دے تاکہ میری ذات سے دوسروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔
The juice that maketh tulips spring within the heart – a bumper bring, Saki! And let the April gust scatter at will my body’s dust.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 24
میں ہر اس برے نقش سے پاک ہو کر آیا ہوں جو دل پر آنکھوں کے ذریعے ابھرتا ہے ۔ میں پاکیزہ فطرت رکھتا ہوں اور تیرے پاس ہر فکر اور خیال سے آزاد ہو کر آیا ہوں یعنی میرا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے ۔
Of every image that the heart takes from the eye – I have no part; perception weigheth not with me, I beg for pure reality.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 25
میرے بے قابو دل نے (جس کا ایمان پختہ نہیں تھا) نورِ ایمان کے ساتھ ارتکاب کفر کیا ہے ۔ اسی وجہ سے میری حالت یہ ہے کہ میں سجدہ ریز تو خدا کے حضور ہوں لیکن غلامی بتوں کی کر رہا ہوں ۔ میرا دل خدا پر ایمان لانے کے باوجود دنیا کی آلائشوں سے پاک نہیں ہے ۔
Against the light, an infidel, my heart, unfettered, doth rebel; it bows before God’s sanctuary and idols serves, indifferently.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 26
اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔
Why in the concourse dost Thou seek the poet’s wild, ecstatic shriek, or lookest for another’s riot, whose heart is troubled and unquiet?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 27
میری حالت یہ ہے کہ نہ تو میرے اندر کفر اور ایمان کی جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی اپنی جان جنت کے باغ کی آرزو میں غموں کے حوالے کرتا ہوں ۔
Faith and infidelity fight not for the mind of me; no delights of Paradise do my stricken soul entice.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 28
(اے ربِ کائنات) ایک خوش الحان پرندہ ہو یا شکار کرنے والا ایک باز ۔ دونوں تیری ہی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ اس زندگی میں نو ر اور نار کے جو راستے نظر آتے ہیں وہ بھی تیری ہی تخلیق ہیں (ہر چیز میں تیرے ہی جلوے نمایاں ہیں ) ۔
Thine is the hawk upon the wing and thine the thrush sweet-carolling, thine is the light and joy of life and thine its fire and baneful strife.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 29
ہزار ہا قسم کی نیکی اور پارسائی سے عاشقی کے راستے پر ایک قدم رکھنا بہتر ہے ۔
One step on friendship’s road fairer I see than the moat pressing load of piety.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 30
میرے دل کی جہان پر اس کی حملہ آوری کے انداز تو دیکھو ۔ اور مجھے مارنے اور جلانے کے بعد مجھے بنانے اور سنوارنے کا عمل بھی دیکھو ۔ مطلب یہ کہ اس کا مارنا اور جلانا میری بہتری کے لیے ہے ۔
In my heart’s empire, see how He rides spitefully, rides with imperious will to ravage, and to kill!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 31
ابھی تک راہِ طلب میں میرا بوجھ کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ دل میں طلب تو ہے لیکن سامانِ سفر موجود نہیں ۔ کیونکہ میں تو کارواں ، سامانِ سفر اور منزل کے تصورات میں ہی الجھا ہوا ہوں ۔ حالانکہ منزلِ عشق کے لیے مادی اسباب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔
Upon the road of high desire my load yet lieth in the mire, because my heart would still engage with trappings, caravan, and stage.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 32
موسم سرما ختم ہو گیا ہے اور درختوں کی شاخوں پر نئے گیت زندہ ہو گئے ہیں ۔
The days are ended of winter long; the branches quiver with living song.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 33
مجھے گھر کی آرزو ہے اور نہ منزل کی ۔ میں تو ہر شہر میں ایک اجنبی کی طرح گزرتا ہوں اور راستے میں بھٹک رہا ہوں (اہل عشق کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا) ۔
At home to loiter never did me please, A rover I, stranger in every land.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 34
میں تو ساقی میکدہ کی مست آنکھوں سے شراب پی کر مست ہو گیا ہوں میں (ظاہری) شراب پئے بغیر ہی نشہ میں چور ہوں ۔ نشہ میں چور ہوں ۔
By the Saki’s eye heart-enflamed I lie; drunk without wine – O delight divine!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 35
اے میرے محبوب! تو نے اپنے رخ روشن سے میری رات کو صبح میں بدل دیا ہے ۔ چونکہ تو آفتابی چہرہ رکھتا ہے اور آفتاب کا کام دنیا کو روشنی عطا کرنا ہے ۔ اس لیے تو بھی میرے سامنے بے حجاب ہو کر آ ۔
Thou didst turn my night to dawning; O Thou sun of presence bright, like the sun Thou art in brightness, light unveiled, most worthy light!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 36
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
None other in this tavern is, Saki, to share my mysteries; am I the first (O who can tell) conceived in heaven, on earth to dwell?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 37
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
Tell me this: what is Thy share in this world of pain and care? Knowest Thou the spirit’s smart? Hast Thou an uneaseful heart?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 38
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
If a sight causes loss of self, it is better hidden from view: I do not accept the deal, Your price is too high.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 39
اے انسان تیرے نور کے جلووَں سے ہر شے وجود میں آئی ہے ۔ تیرے نور کے ان جلووَں کے باعث کائنات کے اسرار و رموز کا پتہ چلا ہے ۔ دریا ہو، جنگل ہو ، آبادی ہو، سورج ہو یا چاند ہو سب کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور فطرت کے تمام پوشیدہ اسرار پر سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔
Thy light defineth all things one by one: black, white, sea, mountain, valley, moon and sun;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 40
اے خدا مجھے ایسا دل عطا کر دے کہ جس کی مستی اس کی اپنی ہی شراب ہو ۔ مجھ سے وہ دل واپس لے لے کہ جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو ۔
Give me the heart whose rapture fine flames from a draught of its own wine, and take the heart that, self-effaced, by alien fancy is embraced.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 41
اے محبوب میرا کل سازوسامان تو مٹھی بھر خاک ہے ۔ اور میں اسے اس امید پر راہوں میں بکھیر رہا ہوں کہ ایک نہ ایک دن میں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دوں گا ۔ یعنی محبوب کی راہ میں فنا ہو کر زندگی کا اعلیٰ مقصد حاصل کر لوں گا ۔
A hand of dust is all I own; I scatter it upon the way, because I hope that on a day it shall ascend to heaven’s throne.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 42
اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔
Let this heart Thou gavest me overflow with certainty, and my world-beholding glass all its radiance surpass.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 43
اے خدا! تیرے عشق کا بھید ہوس کے مارے ہوئے لوگوں کے سامنے نہیں کھولا جا سکتا ۔ شعلہ میں تڑپ کی بات گھاس کے تنکے سے کہنا فضول ہے ۔ کیونکہ وہ اس تڑپ سے ہی نا آشنا ۔ جب تک شعلہ کی تڑپ تنکے تک نہیں پہنچے گی ۔ اسے اس جلن اور تڑپ کا احساس کب ہو گا اس لیے اہل ہوس کو بھی عشق کی رمز سے کوئی سروکار نہیں ۔
To passion’s slaves let no man e’er the mystery of Thy love declare: It is not meet for straws to hear talk of the blazing brazier.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 44
مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بزم طرب میں رباب اور بانسری کی لے کے ساتھ رنگ رنگ کی شرابیں پیا کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شراب کا جام میرے ہاتھوں میں اور صراحی (ساقی) کے ہاتھوں میں ہوتی تھی ۔
Ah, the wine, the lute, the piping, the dear memories of old, when I held the brimming beaker and my friend a bowl of gold.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 45
میری اس اشکوں سے بھری آنکھوں نے رو رو کر میرے دامن میں ستارے گرا دیئے ہیں ۔ ان قیمتی اشکوں کی وجہ سے مجھ میں ایسا ذوق نظر پیدا ہوا کہ اس نے مجھے آسمانوں کے اس پار پھینک دیا ۔
Stars on my bosom shine wept from these eyes of mine: Lo, beyond heaven’s height; cast me the joy of sight;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 46
اہل مشرق کہ جن کی فکر کی کمند میں آسمان ہے محض خیال پرستی کرتے ہیں ۔ (بے عمل ہیں ) یہ اپنے آپ سے بے خبر اور آرزو کے سوز سے خالی ہیں ۔ ہمیشہ غیروں کے محتاج نظر آتے ہیں ۔
The East, that holds the heavens fast within the noose its fancy cast, its spirit’s bonds are all united, the flames of its desire have died.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 47
(اے میرے محبوب) میرے اس بے چین دل کو (اپنے حسن کے جلووَں ) کی کشمکش سے ذرا بھی فراغت نہ دے ۔ اور اپنی ان پیچیدہ زلفوں میں ایک دو شکن پیدا کر دے تاکہ میں ان زلفوں کے پیچ و خم سے باہر نہ آ سکوں ۔
Leave no quarter to resist to this restless heart of mine give Thy curls another twist, let Thy tresses intertwine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 48
میری جان کائنات (زمان و مکان) سے بالکل اسی طرح متضاد ہے جس طرح پہاڑی سلسلے میں بہتی ہوئی ندی کا پانی (پتھروں سے ٹکرانے کے بعد ) شور کرتا ہے ۔
My soul, embattled with fortune ever, weeps like a river among the mountains.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 49
(اے چاراگر) میرے بے چین دل کو جو تسلی تو نے دی ہے اس سے بھی اس کی بے چینی و بے قراری میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس لیے میں اپنے اس بے قرار دل کو پھر سے تیرے سپرد کر رہا ہوں ۔ تاکہ تو اس کی بے قراری کا کوئی موزوں علاج تلاش کرے) ۔
In Thy hands I now deliver once again my restless heart; it will never cease from labour for the ease.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 50