صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 21

غزل شمارهٔ 21

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: ویتو

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

سوز و گداز زندگی لذت جستجوی تو

راه چو مار می گزد گر نروم بسوی تو

اس زندگی میں حرارت و گداز تیری تلاش کی لذت کے باعث ہے ۔ اگر میں تیری طرف سفر اختیار نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے ۔

All that in life I love the best is the sweet fever of Thy quest; the way is like an adder’s sting, be not to thee my wayfaring.

2

سینه گشاده جبرئیل از بر عاشقان گذشت

تا شرری به او فتد ز آتش آرزوی تو

جبرئیل امین اپنا سینہ کھولے ہوئے عاشقوں کے پاس سے گزر گیا تا کہ ان میں تیری آرزو کی ایک چنگاری آ گرے ۔

Lo, Gabriel with naked heart out of love’s bosom doth depart, hopeful to catch a spark of fire from the vast flame of Thy desire.

3

هم بهوای جلوه ئی پاره کنم حجاب را

هم به نگاه نارسا پرده کشم بروی تو

میں تیرے رُخ روشن کی دید کی تمنا میں تیرے چہرے پر پڑے ہوئے پردے کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کر رہا ہوں ۔ اپنی اس نگاہ سے جو تیرے جلووَں کی تاب لانے کی ہمت نہیں رکھتی ۔ تیرے چہرے پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی کر رہا ہوں ۔ یعنی حسرت دیدار بھی ہے اور نگاہوں میں تابِ نظارہ بھی نہیں ۔

Anon I rend my veil in twain, yearning the vision to attain; anon with unavailing sight I veil myself before Thy light.

4

من بتلاش تو روم یا به تلاش خود روم

عقل و دل نظر همه گم شدگان کوی تو

اے میرے محبوب! میں اس بات سے بے خبر ہوں کہ میں تیری تلاش میں ہوں یا میں خود کو تلاش کرنے جا رہا ہوں کیونکہ میری عقل، میرا دل اور میری نظر سب کچھ تیری گلیوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے ۔

Whether in quest of thee I go, or at the last myself to know, intellect, heart, sight – all astray blindly the wander on Thy way.

5

از چمن تو رسته ام قطرهٔ شبنمی ببخش

خاطر غنچه وا شود کم نشود ز جوی تو

میں آپ ہی کے چمن کا پودا ہوں، مجھے قطرۂ شبنم عطا فرمائیے ؛ اس سے میرے غنچے کا دل کھل جائے گا اور آپ کی ندی میں کچھ کمی واقع نہیں ہو گی۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

I was a seedling of Thy mead; sprinkle Thy dew upon my head; the blossom’s heart will quicken, yet no drop shall lack the rivulet.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عقل هم عشق است و از ذوق نگه بیگانه نیست

لیکن این بیچاره را آن جرأت رندانه نیست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 20

اگلی نظم

درین محفل که کار او گذشت از باده و ساقی

ندیمی کو که در جامش فرو ریزم می باقی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 22

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نیست گشاده چشم من جز به خیال روی تو

بسته کس نشد دلم جز به شکنج موی تو

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1665

گر به خطا کنم نگه یک سر مو به روی تو

باد مرا بدین گنه روی سیه چو موی تو

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 808

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور