شاعر
علامہ محمد اقبال (1873ء تا 1938ء) برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور مصلح تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اردو و فارسی دونوں زبانوں میں ایسا بلند پایہ ادبی سرمایہ چھوڑا جس نے بیسویں صدی کی فکری، ادبی اور تہذیبی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اقبال کا شمار جدید اسلامی فکر کے اہم ترین معماروں اور فارسی زبان کے آخری بڑے شعرا میں ہوتا ہے۔
اقبال نے سیالکوٹ، لاہور، کیمبرج اور میونخ میں تعلیم حاصل کی۔ فلسفہ، قانون، تاریخ، تصوف اور اسلامی تہذیب پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی شاعری کا مرکزی تصور خودی ہے، جس کے ذریعے انہوں نے انسان کو اپنی باطنی قوت، اخلاقی عظمت اور تخلیقی صلاحیت کا شعور دلایا۔ عشق، حریت، حرکت، عمل اور امتِ مسلمہ کی روحانی بیداری بھی ان کے کلام کے بنیادی موضوعات ہیں۔
اقبال کے فارسی آثار میں اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، پیامِ مشرق، زبورِ عجم، جاوید نامہ، مسافر، پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔ ان تصانیف میں انہوں نے انسان، کائنات، دین، تہذیب، اخلاق اور عرفان کے مسائل کو نہایت فکری گہرائی اور شعری قوت کے ساتھ بیان کیا۔ ان کی فارسی شاعری مقدار اور فکری گہرائی دونوں اعتبار سے ان کے اردو کلام پر غالب ہے۔
اقبال نے مولانا جلال الدین رومی کو اپنا روحانی مرشد قرار دیا اور فارسی شاعری کی کلاسیکی روایت کو جدید دور کے فکری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا کلام دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور آج بھی مشرق و مغرب کے علمی، ادبی اور فکری حلقوں میں وسیع پیمانے پر پڑھا جاتا ہے۔
علامہ اقبال نے 1938ء میں لاہور میں وفات پائی اور بادشاہی مسجد کے پہلو میں دفن ہوئے۔