درین محفل که کار او گذشت از باده و ساقی
ندیمی کو که در جامش فرو ریزم می باقی
اس بزم ِ جہاں میں ساقی رہے اور نہ ہی میکش اس کا کام شراب و ساقی سے گزر گیا ہے ۔ ایسا دوست اب کہاں ہے کہ میں بچی ہوئی شراب اس کے جام میں انڈیل دوں ۔ مجھے تو کوئی اپنے اسلاف کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا ۔
The night grows late, the route is up, no need for saki now or cup; pass me Thy goblet, friend of mine, I’ll pour thee the remaining wine.
کسی کو زهر شیرین میخورد از جام زرینی
می تلخ از سفال من کجا گیرد به تریاقی
ایسا میکش جو جامِ زریں میں میٹھا زہر پی رہا ہے ۔ وہ میرے مٹی کے پیالے سے زہر کے اثر کو زائل کرنے والی شراب کب پئے گا ۔
Kassey Whoever from the golden bowl quaffs the sweet poison of the soul, in my clay jar the bitter juice is the sole antidote of use.
شرار از خاک من خیزد کجا ریزم کرا سوزم
غلط کردی که در جانم فکندی سوز مشتاقی
میری مٹی سے تو عشق کی چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں ۔ میں انہیں کہاں پھینکوں اور ان سے کس کو جلاؤں ۔ اے خدا تو نے میرے جسم میں یہ شررِ عشق پیدا کر کے اچھا نہیں کیا ۔
Lo, from my dust the sparks unspire: whose spirit shall I set afire? ‘Twas wrong, to kindle in my breast this furnace of desire’s unrest!
مکدر کرد مغرب چشمه های علم و عرفان را
جهان را تیره تر سازد چه مشائی چه اشراقی
تہذیب مغرب نے علم و دانش کے چشموں کو آلودہ کر دیا ہے ۔ ارسطو اور افلاطون کے پیروکار اپنے افکارِ پریشاں سے دماغوں کو تو روشن کر رہے ہیں لیکن دلوں میں تاریکیاں پھیلا رہے ہیں ۔
Alas, the Western mind hath soiled the springs of knowledge undefiled; stoic alike and Platonist have shrouded all the world in mist.
دل گیتی انا المسموم انا المسموم فریادش
خرد نالان که ما عندی بتریاق و لا راقی
اہل مغرب کے افکار نے اس جہاں کے دل کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ ہر کوئی فریاد کر رہا ہے کہ میں آلودہ ہو گیا ہوں ۔ مجھے اس زہر سے نجات دلاوَ ۔ عقل ماتم کناں ہے کہ میرے پاس اس زہر کا کوئی تریاق نہیں ہے اور نہ ہی منتر جنتر پڑھنے والا ہے جو مغرب کے باطل افکار سے لوگوں کو نجات دلا دے ۔
‘Ah! I am poisoned’ – hark, the cry of the world’s heart ascendeth high; reason replies lamentingly, ‘I know no charm, no remedy.’
چه ملائی چه درویشی چه سلطانی چه دربانی
فروغ کار می جوید به سالوسی و زراقی
ملا ، درویش ، سلطان اور درباری سبھی اپنے اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں مصروف کار ہیں ۔ اور اس مقصد کے لیے وہ فریب اور منافقت سے کام لے رہے ہیں ۔
Let it be priest, or beggar poor, king, or the slave that keeps his door, all seek success of merchandise amid hypocrisy and lies.
ببازاری که چشم صیرفی شور است و کم نور است
نگینم خوار تر گردد چو افزاید به براقی
اس بازارِ جہاں میں جہاں اچھی چیز کو پرکھنے والی آنکھ بیمار اور بے نور ہے ۔ میرا نگینہ جب انہیں چمک دمک دکھاتا ہے تو ذلیل و خوار ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کی نظر اصل چیز پرکھنے کی صلاحیت سے بے بہرہ ہے ۔ میرے پیغام کی قدر و قیمت سے وہ آگاہ نہیں ہیں ۔
The money-changers in the mart are blind of head, and black of heart; the brighter gleams my glowing gem, the meaner is its worth to them.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور