ساقیا بر جگرم شعلهٔ نمناک انداز
دگر آشوب قیامت به کف خاک انداز
اے ساقی میرے جگر پر نم آلود شعلہ پھینک ۔ یعنی مجھے شراب عشق پلا کر میرے اس مٹھی بھر جسم میں اپنے عشق کا شور قیامت بر پا کر دے ۔
Saki, on my heart bestow liquid flame with living glow; let the resurrection day dawn tremendous on my clay.
او بیک دانهٔ گندم به زمینم انداخت
تو بیک جرعه آب آنسوی افلاک انداز
میرے جدِ امجد آدم نے گندم کا ایک دانہ کھا کر مجھے جنت سے زمین پر پھینک دیا تھا ۔ اے ساقی اب تو مجھے اپنی شراب معرفت کا ایک گھونٹ پلا کر آسمانوں کے اس پار پھینک دے ۔
He, for one small grain of corn, cast me to the earth in scorn; pour one glass, and see me rise glorified beyond the skies.
عشق را باده مرد افکن و پرزور بده
لای این باده به پیمانه ادراک انداز
جذبہَ عشق جو کہ اس زمانے میں بے زور اور بے وقعت ہو چکا ہے تو اسے اور شہ زوری کی شراب پلا دے اور اس شراب کی تلجھٹ دانش کے پیمانہ میں ڈال دے تاکہ وہ بھی عشق سے آشنا ہو جائے ۔
Give to love Thy liquor, then, strong to loose the thighs of men; toss the liquor’s sediments in the beaker of the sense.
حکمت و فلسفه کرده است گران خیز مرا
خضر من از سرم این بار گران پاک انداز
اس دور کی حکمت اور فلسفہ نے مجھے آرام طلب کر دیا ہے اے میرے خضر تو یہ بوجھ میرے سے اتار دے ۔
Wisdom and philosophy are a grievous load on me; heavenly guide! Stretch out Thy hand, lift my burden, let me stand.
خرد از گرمی صهبا بگدازی نرسید
چارهٔ کار به آن غمزه چالاک انداز
عقل کی صراحی شراب کی حدت سے نہیں پگھلتی ۔ تو اپنے عشوہ و غمزہ سے اسے عشق آشنا کر دے یا مجھے اس عقل سے نجات دے دے کیونکہ عقل سے خدا کی پہچان نہیں ہو سکتی ۔
If hot liquor proveth vain to illuminate the brain, suffer me a second chance, save me with Thy flashing glance.
بزم در کشمکش بیم و امید است هنوز
همه را بی خبر از گردش افلاک انداز
تیری محفل پر ابھی تک خوف اور امید کی کشمکش طاری ہے ۔ اے خدا! تو اہلِ محفل کو آسمانوں کی گردش سے بے خبر کر دے (یعنی انہیں بے یقینی کی کیفیت سے نکال کر اپنے عشق کی دولت سے مالامال کر دے) ۔
Fear and hope are yet at odds in our banquet of the gods; make us all in ignorance be of the wheel of destiny!
میتوان ریخت در آغوش خزان لاله و گل
خیز و بر شاخ کهن خون رگ تاک انداز
خزاں میں بھی بہار لالہ و گل لائی جا سکتی ہے؛ ہماری شاخ کہن پر انگور کا خون ڈال کر اسے سرسبز کر دیجیے (انگور کو بارآور کرنے کے لیے اس کی جڑوں میں خون ڈالا جاتا ہے)۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Roses and anemones scatter at the autumn breeze; yet within our ancient bough set the new sap rising now!
زمین
یا به شمشیر جفا در جگرم چاک انداز
یا به رحمت نظری بر من غمناک انداز
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 178
خیز و در کاسهٔ زر آبِ طَرَبناک انداز
پیشتر زان که شَوَد کاسهٔ سَر خاک انداز
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 264
جام گیر اختر افتاده بر افلاک انداز
روح شو عاریت خاک سوی خاک انداز
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 296
فارسی متن کا ماخذ: گنجور