صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 24

غزل شمارهٔ 24

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: ینیده

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

از آن آبی که در من لاله کارد ساتگینی ده

کف خاک مرا ساقی بباد فرودینی ده

اے خدا مجھے اس پانی (شرابِ عشق) سے صراحی یا بڑا پیالہ عطا کردے جو میرے سینے میں لالہ کے پھول کھلا دے ۔ یعنی وہ شراب عشق جو میرے دل میں امنگوں کو بیدار کر دے ۔ اے ساقی دوراں میرے اس مٹھی بھر جسم کو بہار کی ہوا کے سپرد کر دے تاکہ میری ذات سے دوسروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔

The juice that maketh tulips spring within the heart – a bumper bring, Saki! And let the April gust scatter at will my body’s dust.

2

ز مینائی که خوردم در فرنگ اندیشه تاریکست

سفر ورزیدهٔ خود را نگاه راه بینی ده

یورپ میں دوران قیام اس صراحی سے میں نے جو شراب پی اس سے میری سوچ اور فکر کا دائرہ تنگ ہو گیا ۔ اپنے راستے کے اس مسافر کو دیکھنے والی نگاہ عطا کر دے کیونکہ یورپی افکار سے مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا ۔

I drank the West’s enamelled bowl, and darkness settled o’er my soul; O give me sight to see the way and where I went so sore astray.

3

چو خس از موج هر بادی که می آید ز جا رفتم

دل من از گمانها در خروش آمد یقینی ده

جس طرح ہوا کا ہر جھونکا تنکے کو اڑا کر لے جاتا ہے میں بھی اس تنکے کی طرح زمانے کے غلط نظریات کی نذر ہو گیا ہوں اور اپنا اصل مقام بھی بھول گیا ہوں ۔ میرا دل اب مختلف قسم کے شکوک و شبہات کی وجہ سے فریاد کر رہا ہے ۔ اسے یقین کی دولت عطا کر ۔

Upon the wave of every breeze like chaff I turned as it might please; tumultuous beats the heart of me with vain surmise; give certainty!

4

بجانم آرزوها بود و نابود شرر دارد

شبم را کوکبی از آرزوی دل نشینی ده

مجھے تو ہر وقت یہی فکر رہتی ہے کہ میرے پاس دنیا کا یہ ساز و سامان موجود ہے اور وہ نہیں ہے ، یہی چنگاری مجھے ہر وقت جلائے رکھتی ہے ۔ میری زندگی کی رات کو کسی دلفریب آرزو کا ستارہ بخش دے ۔ تاکہ میں دنیا طلبی سے نجات حاصل کر کے تیرا طلب گار بن جاؤں ۔

My spirit’s fretful small desire glows wanly as a spark of fire; give me desire of heart’s delight, a star to shine upon my night.

5

بدستم خامه ئی دادی که نقش خسروی بندد

رقم کش این چنینم کرده ئی لوح جبینی ده

اے خدا! تو نے میرے ہاتھوں میں ایسا قلم دیا ہے کہ جس سے میں نقشِ شاہانہ کھینچوں ۔ تو نے مجھے ایسا تحریری فن عطا کیا ہے تو اس کے لیے کسی پیشانی کی تختی بھی عطا کر دے جس پر میں اپنا پیغام بھی تحریر کر سکوں ۔

Thou gavest in my hand a pen skilful to paint a king of men; thou madest me a scribe; then give a tablet, that my creed may live!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ساقیا بر جگرم شعلهٔ نمناک انداز

دگر آشوب قیامت به کف خاک انداز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 23

اگلی نظم

ز هر نقشی که دل از دیده گیرد پاک می‌آیم

گدای معنی پاکم تهی ادراک می‌آیم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 25

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور