شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: اکمیایم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ز هر نقشی که دل از دیده گیرد پاک میآیم
گدای معنی پاکم تهی ادراک میآیم
میں ہر اس برے نقش سے پاک ہو کر آیا ہوں جو دل پر آنکھوں کے ذریعے ابھرتا ہے ۔ میں پاکیزہ فطرت رکھتا ہوں اور تیرے پاس ہر فکر اور خیال سے آزاد ہو کر آیا ہوں یعنی میرا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے ۔
Of every image that the heart takes from the eye – I have no part; perception weigheth not with me, I beg for pure reality.
گهی رسم و ره فرزانگی ذوق جنون بخشد
من از درس خردمندان گریبان چاک میآیم
کبھی کبھی عقل و دانش کے طور طریقے ذوقِ جنوں عطا کرتے ہیں ۔ میں بھی دانشمندوں کی درسگاہ سے پھٹا ہوا گریبان لے کر آیا ہوں ۔ یعنی میں نے بھی عقل مندوں کی بزم سے بدظن ہو کر جنوں کو گلے لگا لیا ہے ۔
Anon a touch of madness lies in the conventions of the wise; I come with collar torn, a fool, for all I went to wisdom’s school.
گهی پیچد جهان بر من گهی من بر جهان پیچم
بگردان باده تا بیرون ازین پیچاک میآیم
کبھی یہ دنیا مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور کبھی میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہوں ۔ اے ساقی! کوئی ایسا پیالہ گردش میں لا جسے پی کر میں دنیا کی محبت کی لپیٹ سے باہر آ سکوں ۔
Anon I wrap me in the world, anon about me ‘tis enfurled; pass round the wine, and pass again, that I may break this tangled skein.\\
نه اینجا چشمک ساقی نه آنجا حرف مشتاقی
ز بزم صوفی و ملا بسی غمناک میآیم
نہ تو اس جگہ یعنی (میکدے میں ) ساقی کی مست آنکھوں کے اشارے موجود ہیں اور نہ ہی درسگاہوں میں عشقِ الہٰی کی باتیں ہوتی ہیں ۔ میں نے صوفی و ملا دونوں کی مجالس کا ماحول دیکھا ہے ۔ اسے دیکھ کر مجھے بے حد صدمہ ہوا ہے اور وہاں سے غمزدہ ہو کر آیا ہوں ۔
No Saki’s glance enchants me here, nor any talk of love sincere; from mullah’s board and Sufi’s feast I nothing gain but care increased.
رسد وقتی که خاصان ترا با من فتد کاری
که من صحراییم پیش ملک بیباک میآیم
وہ وقت قریب ہے کہ تیرے خاص بندے میری طرف رجوع کریں گے کیونکہ میں تو صحرا سے تعلق رکھتا ہوں ۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ میں اپنی بات بلاخوف و خطر کرتا ہوں ۔
‘Th time that they had much to do with me, Thy choice and favoured few: The desert was my upbringing; I fearless stride before the king.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور