شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: ریکرده
صنف: غزل/قصیده/قطعه
دل بی قید من با نور ایمان کافری کرده
حرم را سجده آورده بتان را چاکری کرده
میرے بے قابو دل نے (جس کا ایمان پختہ نہیں تھا) نورِ ایمان کے ساتھ ارتکاب کفر کیا ہے ۔ اسی وجہ سے میری حالت یہ ہے کہ میں سجدہ ریز تو خدا کے حضور ہوں لیکن غلامی بتوں کی کر رہا ہوں ۔ میرا دل خدا پر ایمان لانے کے باوجود دنیا کی آلائشوں سے پاک نہیں ہے ۔
Against the light, an infidel, my heart, unfettered, doth rebel; it bows before God’s sanctuary and idols serves, indifferently.
متاع طاقت خود را ترازوئی بر افروزد
ببازار قیامت با خدا سوداگری کرده
عبادت گزار اپنی عبادت و ریاضت ترازو میں تولتا ہے یعنی تسبیح کے دانوں پر شمار کر کے سمجھتا ہے کہ اس عبادت کے بدلے اسے جنت ملے گی ۔ قیامت کے روز جب اعمال کا حساب ہو گا تو اسے دنیا میں خدا سے سوداگری کرنے کے عوض کچھ نہ ملے گا ۔
It sets a balance, to access the value of its righteousness, ready to strike a bargain smart with God, in resurrection’s mart.
زمین و آسمان را بر مراد خویش می خواهد
غبار راه و با تقدیر یزدان داوری کرده
انسان زمین و آسمان اپنی خواہش کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے، حالانکہ اس کا مالک و مختار تو اللہ ہے ۔ انسان کی حیثیت تو راستے کی گرد کی مانند ہے اس کی یہ حیثیت کہ کائنات کے حاکم کا مقابلہ کرے ۔
It would have earth and heaven fulfill all the requirements of its will, and claims, though dust, a judge to be with a divine authority.
گهی با حق درآمیزد گهی با حق درآویزد
زمانی حیدری کرده زمانی خیبری کرده
انسان کی کیفیت تو یہ ہے کہ کبھی وہ حق کی حمایت پر آمادہ ہوتا ہے اور کبھی حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے ۔ اس میں ثابت قدمی مفقود ہوتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ حضرت علی کی طرح بہادری کے جوہر دکھاتا ہے اور کبھی خیبر کے یہودیوں کی طرح حق کے خلاف آواز بلند کرتا ہے ۔
Anon it will with God accord; anon it fights against the Lord, stands for a time as truth’s ally. And then it doth the truth deny.
باین بی رنگی جوهر ازو نیرنگ می ریزد
کلیمی بین که هم پیغمبری هم ساحری کرده
ایسا شخص جو ثابت قدم نہیں وہ ایسے جوہر کی مانند ہے جو بے رنگ ہے، لیکن اس بے رنگی کے باوجود اس میں سے رنگ اور عجائبات برآمد ہو رہے ہیں ۔ یہ شخص ایسے کلیم کی مانند ہے جو ایک طرف تو خدا سے ہم کلام ہے اور دوسری طرح ساحری میں بھی ملوث ہے ۔ یہ دورنگی آج کے دور کے مسلمانوں میں عام ہے ۔
While in its essence void of hue, it paints a lying image, too: a Moses, who the part doth bear of prophet, and of sorcerer!
نگاهش عقل دور اندیش را ذوق جنون داده
ولیکن با جنون فتنه سامان نشتری کرده
ایسے شخص کی دور اندیش نگاہ نے عقل و جنون کا ذوق عطا کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس جنون کے خاتمہ کے لیے اس کی رگوں میں نشتر بھی چلاتا رہتا ہے وہ عقل کو جنون آشنا بھی کرتا ہے اور پھر اسے ختم کرنے کی چالیں بھی سوچتا رہتا ہے ۔
Its glance a touch of the insane imparteth to the prudent brain, and yet a lancet it can use the madman’s swelling to reduce.
بخود کی می رسد این راه پیمای تن آسانی
هزاران سال منزل در مقام آزری کرده
ایسی دو رخی چال رکھنے والا آرام طلب اور سست رو اپنے آپ کو کیسے پہچان سکتا ہے ۔ جس نے ہزاروں سال سے بت گری اور بت پرستی کو اپنا رکھا ہوا اسے اپنے تخلیق کار کی کیا خبر ہو سکتی ہے
When shall this lazy traveller reach his goal, the inner chamber of the soul that doth these thousand years abide at falsehood’s shrine, in slothful pride?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور