شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: رچهمیخواهی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ز شاعر ناله مستانه در محشر چه میخواهی
تو خود هنگامهای هنگامهٔ دیگر چه میخواهی
اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔
Why in the concourse dost Thou seek the poet’s wild, ecstatic shriek, or lookest for another’s riot, whose heart is troubled and unquiet?
به بحر نغمه کردی آشنا طبع روانم را
ز چاک سینهام دریا طلب گوهر چه میخواهی
اے خدا! تو نے میری طبیعت کو سمندر کے نغموں سے آشنا کر دیا ہے ۔ اس لیے تو میرے چاکِ گریباں سے دریا کی طلب کر تو اس سے موتی کیوں مانگ رہا ہے ۔ میں آج بہ روزِ حشر ترے سامنے اپنے اشعار کا نذرانہ پیش کر رہا ہوں ۔ یہی میرے اعمال ہیں ۔
My affluent muse was taught by thee to swim the waves of melody; why seekest Thou the gem? Behold, my pierced heart doth the sea enfold.
نماز بیحضور از من نمیآید نمیآید
دلی آوردهام دیگر ازین کافر چه میخواهی
اے خدا! مجھ سے ایسی نماز کی ادائیگی ممکن نہیں جس نماز میں تو میرے سامنے نہ ہو ۔ میں نے اپنا محبت بھرا دل تیرے حضور پیش کر دیا ہے اب تو اس بے نماز کافر سے اور کیا چاہتا ہے
Except within Thy presence there I stand. I cannot breathe my prayer: my heart before Thy feet I fling – what else should unbeliever bring?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور