صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 27

غزل شمارهٔ 27

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: رچهمیخواهی

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ز شاعر ناله مستانه در محشر چه می‌خواهی

تو خود هنگامه‌ای هنگامهٔ دیگر چه می‌خواهی

اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔

Why in the concourse dost Thou seek the poet’s wild, ecstatic shriek, or lookest for another’s riot, whose heart is troubled and unquiet?

2

به بحر نغمه کردی آشنا طبع روانم را

ز چاک سینه‌ام دریا طلب گوهر چه می‌خواهی

اے خدا! تو نے میری طبیعت کو سمندر کے نغموں سے آشنا کر دیا ہے ۔ اس لیے تو میرے چاکِ گریباں سے دریا کی طلب کر تو اس سے موتی کیوں مانگ رہا ہے ۔ میں آج بہ روزِ حشر ترے سامنے اپنے اشعار کا نذرانہ پیش کر رہا ہوں ۔ یہی میرے اعمال ہیں ۔

My affluent muse was taught by thee to swim the waves of melody; why seekest Thou the gem? Behold, my pierced heart doth the sea enfold.

3

نماز بی‌حضور از من نمی‌آید نمی‌آید

دلی آورده‌ام دیگر ازین کافر چه می‌خواهی

اے خدا! مجھ سے ایسی نماز کی ادائیگی ممکن نہیں جس نماز میں تو میرے سامنے نہ ہو ۔ میں نے اپنا محبت بھرا دل تیرے حضور پیش کر دیا ہے اب تو اس بے نماز کافر سے اور کیا چاہتا ہے

Except within Thy presence there I stand. I cannot breathe my prayer: my heart before Thy feet I fling – what else should unbeliever bring?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل بی قید من با نور ایمان کافری کرده

حرم را سجده آورده بتان را چاکری کرده

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 26

اگلی نظم

نه در اندیشهٔ من کار زار کفر و ایمانی

نه در جان غم اندوزم هوای باغ رضوانی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 28

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور