صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 42

غزل شمارهٔ 42

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: انماورا

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

کف خاکی برگ و سازم برهی فشانم او را

به امید اینکه روزی بفلک رسانم او را

اے محبوب میرا کل سازوسامان تو مٹھی بھر خاک ہے ۔ اور میں اسے اس امید پر راہوں میں بکھیر رہا ہوں کہ ایک نہ ایک دن میں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دوں گا ۔ یعنی محبوب کی راہ میں فنا ہو کر زندگی کا اعلیٰ مقصد حاصل کر لوں گا ۔

A hand of dust is all I own; I scatter it upon the way, because I hope that on a day it shall ascend to heaven’s throne.

2

چه کنم چه چاره گیرم که ز شاخ علم و دانش

ندمیده هیچ خاری که بدل نشانم او را

میرے پاس اب اور چارہ کار کیا رہ گیا ہے علم و دانش کی شاخ پر تو کوئی ایسا کانٹا بھی نہیں نکل سکا کہ میں اسے اپنے سینے میں چبھو کر (تیری محبت حاصل کر لوں ) ۔

What stratagem have I, what art? For on the branch of wisdom’s tree no thorn has ever sprung for me that I might thrust into my heart.

3

دهد آتش جدائی شرر مرا نمودی

به همان نفس بمیرم که فرونشانم او را

ہجر و فراق کی آگ سے میری چنگاری میں اور زیادہ چمک پیدا کرتی ہے ۔ میں تو اسی سانس میں مر جاتا ہوں جس سانس کو میں اپنے بدن میں لے کر جاتا ہوں ۔ مطلب یہ کہ وصل محبوب سے عشق کی موت واقع ہو جاتی ہے اور ہجر کی آگ زندگی میں عشق کی تڑپ زندہ رکھتی ہے ۔

The fires of separation give a brief effulgence to my flame, and when I would damp down the same, that very breath I no more live.

4

می عشق و مستی او نرود برون ز خونم

که دل آنچنان ندادم که دگر ستانم او را

اس (محبوب) کے عشق اور مستی کی شراب میرے خون سے باہر نہیں نکلتی ۔ کیونکہ میں نے اسے دل اس لیے نہیں دیا کہ اس سے واپس لے لوں ۔

Let it not vanish from my vein, the wine and drunkenness of love; I suffer none triumph of my heart, to take it back again.

5

تو به لوح سادهٔ من همه مدعا نوشتی

دگر آنچنان ادب کن که غلط نخوانم او را

اے خدا! تو نے میری صاف شفاف تختی پر زندگی کے تمام اصول تحریر کر دیے ہیں ۔ اب مجھے ایسا شعور عطا کر میں اس تحریر کو غلط نہ پڑھوں ۔ یعنی تیرے اصولوں کے مطابق زندگی گزاروں ۔

Upon the tablets Thou didst write the argument entire and whole; and now, so discipline my soul that I may read the script aright.

6

بحضور تو اگر کس غزلی ز من سراید

چه شود اگر نوازی به همین که دانم او را

اگر آپ کے حضور کوئی میری غزل پیش کرے تو کیا ہی اچھا ہو اگر آپ اسے یہ کہہ کر نواز دیں کہ 'میں اسے جانتا ہوں'۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

If in Thy presence one ghazal I ever made be sung to thee, what would it cost, the courtesy to whisper, ‘Yes, I know him well’?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بده آندل که مستی های او از بادهٔ خویش است

بگیر آندل که از خود رفته و بیگانه اندیش است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 41

اگلی نظم

این دل که مرا دادی لبریز یقین بادا

این جام جهان بینم روشن تر ازین بادا

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 43

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور