شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: یشاست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بده آندل که مستی های او از بادهٔ خویش است
بگیر آندل که از خود رفته و بیگانه اندیش است
اے خدا مجھے ایسا دل عطا کر دے کہ جس کی مستی اس کی اپنی ہی شراب ہو ۔ مجھ سے وہ دل واپس لے لے کہ جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو ۔
Give me the heart whose rapture fine flames from a draught of its own wine, and take the heart that, self-effaced, by alien fancy is embraced.
بده آندل بده آن دل که گیتی را فراگیرد
بگیر این دل بگیر این دل که در بند کم و بیش است
مجھے وہ دل عطا کر دے جو اس کائنات کو اپنی گرفت میں لے لے ۔ اور مجھ سے وہ دل واپس لے لے جو دنیاوی مفاد کے چکر میں پھنسا ہوا ہے ۔
Give me the heart, give me the heart that of the world will have no part; I yield the heart right gladly o’er that is a slave to less and more.
مرا ای صید گیر از ترکش تقدیر بیرون کش
جگر دوزی چه می آید از آن تیری که در کیش است
اے شکارا! تو مجھے تقدیر کے ترکش کے دائرے سے باہر نکال ۔ وہ تیر میرے جگر کو کیسے زخمی کر سکتا ہے جو ابھی ترکش میں ہی پڑا ہو ۔
O draw me forth, Thou huntsman bold, out of fate’s quiver Thou dost hold; except the shaft be put to bow, how shall it lay the quarry low?
نگردد زندگانی خسته از کار جهان گیری
جهانی در گره بستم جهانی دیگری پیش است
دنیا پر قبضہ کرنے یا اسے مسخر کرنے کے عمل سے زندگی میں کمزوری نہیں آتی ۔ میں جب اس دنیا کو اپنے قبضے میں کر لیتا ہوں تو میری تگ و دو کے لیے دوسرا جہان میرے سامنے موجود ہوتا ہے ۔ یعنی دنیا مسلسل جدوجہد کا نام ہے ۔
This life is ne’er a weary thing while there be worlds for conquering: behold, one world lies bound and tied – into another world I ride.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور