صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 40

غزل شمارهٔ 40

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اهرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 9

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

نور تو وانمود سپید و سیاه را

دریا و کوه و دشت و در و مهر و ماه را

اے انسان تیرے نور کے جلووَں سے ہر شے وجود میں آئی ہے ۔ تیرے نور کے ان جلووَں کے باعث کائنات کے اسرار و رموز کا پتہ چلا ہے ۔ دریا ہو، جنگل ہو ، آبادی ہو، سورج ہو یا چاند ہو سب کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور فطرت کے تمام پوشیدہ اسرار پر سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔

Thy light defineth all things one by one: black, white, sea, mountain, valley, moon and sun;

2

تو در هوای آنکه نگه آشنای اوست

من در تلاش آنکه نتابد نگاه را

(اے دنیا کے متلاشی) تو اس چیز کا طالب ہے جسے تیری نگاہ دیکھ سکتی ہے ۔ یعنی تو مادی اشیا کا خواستگار ہے ۔ لیکن میں تو اس ہستی (خدا) کی تلاش میں ہوں جو نگاہوں کے دائرے میں نہیں سما سکتا ۔

Thou seekest one familiar with the light; my quest is He who cannot bear the sight.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

اگر نظاره از خود رفتگی آرد حجاب اولی

نگیرد با من این سودا بها از بس گران خواهی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 39

اگلی نظم

بده آندل که مستی های او از بادهٔ خویش است

بگیر آندل که از خود رفته و بیگانه اندیش است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 41

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آنکو شناخت گردش خورشید و ماه را

جوید برای خفتن خود خوابگاه را

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 43

آن روی بین که حسن بپوشید ماه را

وآن دام زلف و دانهٔ خال سیاه را

سعدی»مواعظ»قصاید»قصیدهٔ شمارهٔ 3 - در ستایش اتابک مظفرالدین سلجوقشاه

از باده چون کند عرق آلود ماه را

در چشم آفتاب بسوزد نگاه را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 733

رویت ز هاله حلقه کند نام ماه را

دلسرد از آفتاب کند صبحگاه را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 734

طاعت کند سرشک ندامت گناه را

ریزش سفید می کند ابر سیاه را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 735

رفتم ز راه دل خس و خار گناه را

کردم به آه همچو کف دست راه را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 736

تا تیز کرده ای به سیاست نگاه را

صد منت است بر دل عاشق گناه را

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 21

هرگه رقم کنم به تو عذر گناه را

ریزم چو خامه از مژه خون سیاه را

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 43

از چاه غبغبش به درآورده ماه را

بر ماه، عقرب سیهش بسته راه را

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 44

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور