شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: انخواهی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
اگر نظاره از خود رفتگی آرد حجاب اولی
نگیرد با من این سودا بها از بس گران خواهی
اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔
If a sight causes loss of self, it is better hidden from view: I do not accept the deal, Your price is too high.
سخن بی پرده گو با ما شد آن روز کم آمیزی
که می گفتند تو ما را چنین خواهی چنان خواهی
ہم سے سامنے آکر بات کریں ، کم آمیزی کے دن بیت گئے ؛ جب کہ دوسرے یہ کہتے تھے ، آپ ہم سے یہ چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں۔
Speak to us unveiled; the time for being reserved is gone – when others told us whatever it was You wanted of us.
نگاه بی ادب زد رخنه ها در چرخ مینائی
دگر عالم بنا کن گر حجابی درمیان خواهی
ہماری نگاہ بے ادب نے آسمان میں رخنے ڈال دیے ہیں؛ اگر آپ کو حجاب ہے تو اور جہان بنا لیجیے۔
My insolent eyes have pierced the blue sky. If you want to have a barrier between us, build another world.
چنان خود را نگه داری که با این بی نیازی ها
شهادت بر وجود خود ز خون دوستان خواهی
آپ اپنا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ باوجود بے نیازی کے اپنے وجود پر دوستوں کے خون کی شہادت چاہتے ہیں۔
How You look out for Yourself! For all Your unconcern, You demand the blood of friends to prove you exist.
مقام بندگی دیگر مقام عاشقی دیگر
ز نوری سجده میخواهی ز خاکی بیش از آن خواهی
بندگی کا مقام اور ہے ، عاشقی کا مقام اور ہے؛ فرشتے سے آپ صرف سجدہ چاہتے ہیں ، لیکن خاکی سے اس سے زیادہ (یعنی شہادت) کے طلبگار ہیں۔
Worship is one station, love is another: You want angels to bow before you, but men to do still more.
مس خامی که دارم از محبت کیمیا سازم
که فردا چون رسم پیش تو از من ارمغان خواهی
میرے پاس جو کچا تانبا (قلب) ہے، میں اسے آپ کی محبت سے کیمیا بنا رہا ہوں؛ کیونکہ کل (روز قیامت ) جب میں آپ کے سامنے پیش ہوں گا تو آپ فرمائیں گے: میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو۔
With love I convert the crude copper I have into gold, for when I meet you tomorrow, You will want a gift from me.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور