صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 38

غزل شمارهٔ 38

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: ارداری

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بجهان دردمندان تو بگو چه کار داری

تب و تاب ما شناسی دل بی قرار داری

اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔

Tell me this: what is Thy share in this world of pain and care? Knowest Thou the spirit’s smart? Hast Thou an uneaseful heart?

2

چه خبر ترا ز اشکی که فرو چکد ز چشمی

تو ببرگ گل ز شبنم در شاهوار داری

کبھی آپ میرے اس پیکر فرسودہ کو کف خاک بنا دیتے ہیں۔ اور کبھی اس خاک پر آب عشق چھڑک کر اس کے اندر آگ پیدا کر دیتے ہیں۔

Of such bitter tears that well from the eye, what canst Thou tell? See, Thy rose’s petals hold dewy pearls of price untold!

3

چه بگویمت ز جانی که نفس نفس شمارد

دم مستعار داری غم روزگار داری

آپ نے غم کو ایک بار پھر زمزم کا ہنگامہ عطا کیا ہے۔ اب اسے عشق کی دولت بیدار اور جام جہاں بیں بھی عطا فرمائیے۔

Or the soul, that numbereth life departing at each breath, borrowed spirit, grief of time – shall I speak thee in rhyme?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر

که من شاید نخستین آدمم از عالمی دیگر

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 37

اگلی نظم

اگر نظاره از خود رفتگی آرد حجاب اولی

نگیرد با من این سودا بها از بس گران خواهی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 39

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور