شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)
قافیہ: ارداری
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بجهان دردمندان تو بگو چه کار داری
تب و تاب ما شناسی دل بی قرار داری
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
Tell me this: what is Thy share in this world of pain and care? Knowest Thou the spirit’s smart? Hast Thou an uneaseful heart?
چه خبر ترا ز اشکی که فرو چکد ز چشمی
تو ببرگ گل ز شبنم در شاهوار داری
کبھی آپ میرے اس پیکر فرسودہ کو کف خاک بنا دیتے ہیں۔ اور کبھی اس خاک پر آب عشق چھڑک کر اس کے اندر آگ پیدا کر دیتے ہیں۔
Of such bitter tears that well from the eye, what canst Thou tell? See, Thy rose’s petals hold dewy pearls of price untold!
چه بگویمت ز جانی که نفس نفس شمارد
دم مستعار داری غم روزگار داری
آپ نے غم کو ایک بار پھر زمزم کا ہنگامہ عطا کیا ہے۔ اب اسے عشق کی دولت بیدار اور جام جہاں بیں بھی عطا فرمائیے۔
Or the soul, that numbereth life departing at each breath, borrowed spirit, grief of time – shall I speak thee in rhyme?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور