صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 37

غزل شمارهٔ 37

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: میدیگر

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر

که من شاید نخستین آدمم از عالمی دیگر

اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔

None other in this tavern is, Saki, to share my mysteries; am I the first (O who can tell) conceived in heaven, on earth to dwell?

2

دمی این پیکر فرسوده را سازی کف خاکی

فشانی آب و از خاک آتش انگیزی دمی دیگر

کبھی آپ میرے اس پیکر فرسودہ کو کف چاک بنا دیتے ہیں؛ اور کبھی اس خاک پر آپ عشق چھڑک کر اس کے اندر آگ پیدا کر دیتے ہیں۔

A while this spent and weary frame Thou makest dust; and on the same scatterest water; lo I see fire in the ashes presently.

3

بیار آن دولت بیدار و آن جام جهان بین را

عجم را داده ای هنگامهٔ بزم جمی دیگر

آپ نے عجم کو ایک بار پھر بزم جم کا ہنگامہ عطا کیا ہے؛ اب اس عشق کی دولت بیدار اور جام جہاں بیں بھی عطا فرمائیے۔

Bring me that fortune ever new, the cup where lies the world to view, for, in the palace of the East, another Jamshid sits to feast.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شب من سحر نمودی که به طلعت آفتابی

تو به طلعت آفتابی سزد اینکه بی حجابی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 36

اگلی نظم

بجهان دردمندان تو بگو چه کار داری

تب و تاب ما شناسی دل بی قرار داری

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 38

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به لب آرام گیر ای جان غمگین یک دمی دیگر

که شاید در حریم سینه بفریبد غمی دیگر

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 369

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور