صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 36

غزل شمارهٔ 36

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: ابی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

شب من سحر نمودی که به طلعت آفتابی

تو به طلعت آفتابی سزد اینکه بی حجابی

اے میرے محبوب! تو نے اپنے رخ روشن سے میری رات کو صبح میں بدل دیا ہے ۔ چونکہ تو آفتابی چہرہ رکھتا ہے اور آفتاب کا کام دنیا کو روشنی عطا کرنا ہے ۔ اس لیے تو بھی میرے سامنے بے حجاب ہو کر آ ۔

Thou didst turn my night to dawning; O Thou sun of presence bright, like the sun Thou art in brightness, light unveiled, most worthy light!

2

تو به درد من رسیدی به ضمیرم آرمیدی

ز نگاه من رمیدی به چنین گران رکابی

تیرا یہ کرم ہے کہ تو نے میرے درد کو پہچان لیا اور اب اس دل میں تو آرام کرنے لگا ہے ۔ تو اس قدر دل میں بسنے کے باوجود میری نگاہوں سے دور ہے ۔

Camest Thou to ease my sorrow, and within my thought didst rest, then didst vanish from my vision with so swift, impetuous haste.

3

تو عیار کم‌عیاران تو قرار بی‌قراران

تو دوای دل‌فگاران مگر اینکه دیریابی

تو میرے جیسے بے قیمت لوگوں کی قیمت اور بے قرار دلوں کا قرار ہے ۔ تو غم زدہ دلوں کا کارگر دوا ہے ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ تو آسانی سے ہاتھ نہیں آتا ۔

Thou assay of the assayless, ease of the reposeless mind, cure of the afflicted spirit, save too rare Thou art to find!

4

غم و عشق و لذت او اثر دو گونه دارد

گهی سوز و دردمندی گهی مستی و خرابی

عشق کے غم اور اس کی لذت کا اثر دو گنہ ہے؛ کبھی سوز و دردمندی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی مستی و خرابی کی صورت میں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Passion’s sorrow, passion’s pleasure, two fold is love’s influence: Now an agony and burning, now the drunkard’s turbulence.

5

ز حکایت دل من تو بگو که خوب دانی

دل من کجا که او را به کنار من نیابی

میرے دل کی کہانی آپ سنائیں کیونکہ آپ اسے بہتر جانتے ہیں؛ مجھے بتائیں کہ میرا دل کہاں ہے؟ اسے اپنے پہلو میں تو نہیں پاتا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Speak me then, for true Thou knowest: Of my heart the history tell – where is now my heart in hiding? In my breast it doth not dwell.

6

به جلال تو که در دل دگر آرزو ندارم

به جز این دعا که بخشی به کبوتران عقابی

تیرے جلال کی قسم! میرے دل میں کوئی اور آرزو نہیں؛ سوائے اس کے کہ تو کبوتروں (اس دور کے مسلمانوں ) کو عقابی شان عطا فرمائیے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

By the majesty I swear it, no desire my spirit moves save the prayer: An eagle spirit, Lord, bestow upon Thy doves!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از چشم ساقی مست شرابم

بی می خرابم بی می خرابم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 35

اگلی نظم

درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر

که من شاید نخستین آدمم از عالمی دیگر

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 37

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سرِ آن ندارد امشب که برآید آفتابی

چه خیال‌ها گذر کرد و گذر نکرد خوابی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 519

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور