شاعر: علامہ اقبال
وزن: مستفعلن فع مستفعلن فع (متقارب مثمن اثلم)
قافیہ: ابم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
از چشم ساقی مست شرابم
بی می خرابم بی می خرابم
میں تو ساقی میکدہ کی مست آنکھوں سے شراب پی کر مست ہو گیا ہوں میں (ظاہری) شراب پئے بغیر ہی نشہ میں چور ہوں ۔ نشہ میں چور ہوں ۔
By the Saki’s eye heart-enflamed I lie; drunk without wine – O delight divine!
شوقم فزون تر از بی حجابی
بینم نه بینم در پیچ و تابم
اس (محبوب کے) بے حجاب ہو کر میرے سامنے آنے سے میرا شوقِ جنوں کم ہونے کے بجائے اور تیز ہو جاتا ہے ۔ میں اس کی صورت زیبا دیکھوں یا نہ دیکھوں ۔ دونوں صورتوں میں بے چین رہتا ہوں ۔
All unveiled, desire burns a fiercer fire; let me see or no, yet my soul’s aglow.
چون رشتهٔ شمع آتش بگیرد
از زخمهٔ من تار ربابم
جس طرح شمع کا دھاگا آگ دکھانے سے جل اٹھتا ہے ۔ اسی طرح میری مضراب سے رباب کے تار فریاد کرنے لگتے ہیں (میری آہ و فغاں سے میرے عشق کے جذبات اور زیادہ بھڑکنے لگتے ہیں ) ۔
See the rebec’s string at my fingering like a candle’s wick flameth bright and quick.
از من برون نیست منزلگه من
من بی نصیبم ، راهی نیابم
میری منزل عشق مجھ سے باہر تو نہیں ۔ لیکن میں بدقسمت ہوں کہ مجھے کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا ۔
Save my heart can be lodging none for me, naught is me assigned, ne’er a way I find.
تا آفتابی خیزد ز خاور
مانند انجم بستند خوابم
اس وقت تک جب مشرق سے آفتاب طلوع ہو ۔ تو نے ستاروں کی طرح مجھے جگا رکھا ہے ۔ جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا ستاروں میں روشنی باقی رہتی ہے اور آفتاب کے ظاہر ہونے کے بعد ستارے موجود تو ہوتے ہیں لیکن ان میں چمک باقی نہیں رہتی ۔ اسی طرح جب مجھے تیری معرفت ہو جائے گی تو میں بھی ہونیکے باوجود نہیں ہوں گا ۔ میں معرفت الہٰی میں سما جاؤں گا ۔
Till the sun arise from the eastern skies sleep to me denied. Like the stars I ride.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور