صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 34

غزل شمارهٔ 34

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ارم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

هوای خانه و منزل ندارم

سر راهم غریب هر دیارم

مجھے گھر کی آرزو ہے اور نہ منزل کی ۔ میں تو ہر شہر میں ایک اجنبی کی طرح گزرتا ہوں اور راستے میں بھٹک رہا ہوں (اہل عشق کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا) ۔

At home to loiter never did me please, A rover I, stranger in every land.

2

سحر می گفت خاکستر صبا را

«فسرد از باد این صحرا شرارم

علی الصبح میرے جسم کی راکھ نے نرم و لطیف ہوا سے کہا کہ اس صحرا کی ہوا سے میری چنگاریاں بجھ گئی ہیں ۔

At dawn, the ashes thus addressed the breeze: ‘This desert’s air put out my flaming brand;

3

گذر نرمک ، پریشانم مگردان

ز سوز کاروانی یادگارم»

اے باد صبا مجھ پر آہستہ آہستہ چل اور مجھے پریشان نہ کر ۔ کیونکہ میں تو اس راستے سے گزرے ہوئے کسی کارواں کے سوز کی یادگار ہوں ۔ (کارواں گزرنے کے بعد ماحول پر جو اداسی چھا جاتی ہے) ۔

Pass gently; scatter me not with Thy hand; I yet recall the caravans’s unease.’

4

ز چشمم اشک چون شبنم فرو ریخت

که من هم خاکم و در رهگذارم

میری آنکھوں سے شبنم کی طرح آنسو نیچے جا گرے ۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں بھی خاک ہوں اور ابھی ایک مسافر کی مانند ہوں ۔ یعنی میں بھی فانی ہوں ۔

My tears, like dew, trickled upon the sand, I, too, being dust on the world’s passages.

5

بگوش من رسید از دل سرودی

که جوی روزگار از چشمه سارم

میرے کانوں میں میرے دل کا یہ نغمہ پہنچا کہ اس زمانے کی ندی میرے چشموں کے پانیوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ یعنی یہ زمانہ یہ کائنات انسان ہی کے لیے تخلیق کی گئی ہے ۔

Then in my heart I heard a soft voice sing: The stream of time did from my fountain spring.

6

ازل تاب و تب پیشنیهٔ من

ابد از ذوق و شوق انتظارم

(دل کا یہ کہنا ہے) کہ ابتدائے آفرینش کہ کہانی میری ہی سابقہ چمک دمک ہے اور ابد میرے انتظار کے ذوق و شوق کے باعث ہے ۔ مطلب یہ کہ میں ازل سے ہوں اور ابد تک رہوں گا ۔

The past is all my fever and fire of yore, the future all that I am yearning for:

7

میندیش از کف خاکی میندیش

بجان تو که من پایان ندارم

اس مٹھی بھر خاک (دل) سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ تیری جان کی قسم میری کوئی حد نہیں میں تو ایک لامحدود چیز ہوں ۔

Think not upon thy dust, O think no more – Lo, by the life, I know no perishing!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زمستان را سرآمد روزگاران

نواها زنده شد در شاخساران

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 33

اگلی نظم

از چشم ساقی مست شرابم

بی می خرابم بی می خرابم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 35

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ز دستِ کوتهِ خود زیرِ بارم

که از بالابلندان شرمسارم

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 323

بیا ای آنک بردی تو قرارم

درآ چون تنگ شکر در کنارم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1511

چه خوش بودی، دریغا، روزگارم؟

اگر با من خوشستی غمگسارم

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 172

چه خوش بودی، دریغا، روزگارم؟

اگر در من نگه کردی نگارم

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 173

به گل پیراهنی امیدوارم

که خوشبو سازد آغوش و کنارم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 424

خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت

نگاهی تشنهٔ دیدار دارم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 49

نه من بر مرکب ختلی سوارم

نه از وابستگان شهریارم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 93

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور