هوای خانه و منزل ندارم
سر راهم غریب هر دیارم
مجھے گھر کی آرزو ہے اور نہ منزل کی ۔ میں تو ہر شہر میں ایک اجنبی کی طرح گزرتا ہوں اور راستے میں بھٹک رہا ہوں (اہل عشق کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا) ۔
At home to loiter never did me please, A rover I, stranger in every land.
سحر می گفت خاکستر صبا را
«فسرد از باد این صحرا شرارم
علی الصبح میرے جسم کی راکھ نے نرم و لطیف ہوا سے کہا کہ اس صحرا کی ہوا سے میری چنگاریاں بجھ گئی ہیں ۔
At dawn, the ashes thus addressed the breeze: ‘This desert’s air put out my flaming brand;
گذر نرمک ، پریشانم مگردان
ز سوز کاروانی یادگارم»
اے باد صبا مجھ پر آہستہ آہستہ چل اور مجھے پریشان نہ کر ۔ کیونکہ میں تو اس راستے سے گزرے ہوئے کسی کارواں کے سوز کی یادگار ہوں ۔ (کارواں گزرنے کے بعد ماحول پر جو اداسی چھا جاتی ہے) ۔
Pass gently; scatter me not with Thy hand; I yet recall the caravans’s unease.’
ز چشمم اشک چون شبنم فرو ریخت
که من هم خاکم و در رهگذارم
میری آنکھوں سے شبنم کی طرح آنسو نیچے جا گرے ۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں بھی خاک ہوں اور ابھی ایک مسافر کی مانند ہوں ۔ یعنی میں بھی فانی ہوں ۔
My tears, like dew, trickled upon the sand, I, too, being dust on the world’s passages.
بگوش من رسید از دل سرودی
که جوی روزگار از چشمه سارم
میرے کانوں میں میرے دل کا یہ نغمہ پہنچا کہ اس زمانے کی ندی میرے چشموں کے پانیوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ یعنی یہ زمانہ یہ کائنات انسان ہی کے لیے تخلیق کی گئی ہے ۔
Then in my heart I heard a soft voice sing: The stream of time did from my fountain spring.
ازل تاب و تب پیشنیهٔ من
ابد از ذوق و شوق انتظارم
(دل کا یہ کہنا ہے) کہ ابتدائے آفرینش کہ کہانی میری ہی سابقہ چمک دمک ہے اور ابد میرے انتظار کے ذوق و شوق کے باعث ہے ۔ مطلب یہ کہ میں ازل سے ہوں اور ابد تک رہوں گا ۔
The past is all my fever and fire of yore, the future all that I am yearning for:
میندیش از کف خاکی میندیش
بجان تو که من پایان ندارم
اس مٹھی بھر خاک (دل) سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔ تیری جان کی قسم میری کوئی حد نہیں میں تو ایک لامحدود چیز ہوں ۔
Think not upon thy dust, O think no more – Lo, by the life, I know no perishing!
زمین
ز دستِ کوتهِ خود زیرِ بارم
که از بالابلندان شرمسارم
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 323
بیا ای آنک بردی تو قرارم
درآ چون تنگ شکر در کنارم
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 1511
چه خوش بودی، دریغا، روزگارم؟
اگر با من خوشستی غمگسارم
عراقیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 172
چه خوش بودی، دریغا، روزگارم؟
اگر در من نگه کردی نگارم
عراقیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 173
به گل پیراهنی امیدوارم
که خوشبو سازد آغوش و کنارم
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 424
خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
نگاهی تشنهٔ دیدار دارم
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 49
نه من بر مرکب ختلی سوارم
نه از وابستگان شهریارم
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 93
فارسی متن کا ماخذ: گنجور