صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 33

غزل شمارهٔ 33

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اران

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

زمستان را سرآمد روزگاران

نواها زنده شد در شاخساران

موسم سرما ختم ہو گیا ہے اور درختوں کی شاخوں پر نئے گیت زندہ ہو گئے ہیں ۔

The days are ended of winter long; the branches quiver with living song.

2

گلان را رنگ و نم بخشد هواها

که می آید ز طرف جویباران

ہوائیں پھولوں کو نیا رنگ اور تازگی بخش رہی ہیں ۔ کیونکہ وہ نہروں کی طرف سے (تازہ دم ہو کر ) آ رہی ہیں ۔

The breeze in beauty arrays the rose as from the river it gently blows.

3

چراغ لاله اندر دشت و صحرا

شود روشن تر از باد بهاران

لالہ کے پھول جو چراغوں کی طرح روشن ہیں بیابان اور صحرا میں کھلے ہوئے ہیں ۔ اور بہار کی شگفتہ ہوا سے وہ اور بھی زیادہ سرخ و شاداب ہو رہے ہیں ۔

The tulip’s lantern in desert bare is fanned to brightness, by the spring air.

4

دلم افسرده تر در صحبت گل

گریزد این غزال از مرغزاران

ایسے موسم میں (جب چاروں طرف پھول کھلے ہوئے ہیں ) میرا دل ان پھولوں کی صحبت سے اور زیادہ افسردہ ہو گیا ہے ۔ یہ اس ہرن کی طرح ہے جو سبزہ زاروں سے بے نیاز ہے یعنی اسے بیابان پسند ہے ۔

Sad, mid the roses, my heart doth dwell, yea, from the meadow flees the gazelle;

5

دمی آسوده با درد و غم خویش

دمی نالان چو جوی کوهساران

میرے بے قرار دل کی یہ کیفیت ہے کہ کبھی تو اسے اپنے غم اور افسردگی میں کیف محسوس ہوتا ہے اور کبھی وہ پہاڑوں سے اترنے والی ندی کی طرح شور مچانا شروع کر دیتا ہے ۔

A little eases with grief and pain or like a bill-stream laments again.

6

ز بیم اینکه ذوقش کم نگردد

نگویم حال دل با رازداران

اس ڈر سے کہ میرے دل کا ذوق کہیں کم نہ ہو جائے ۔ میں اپنے دل کی حالت اپنے قریبی رازدار دوستوں سے بھی بیان نہیں کرتا ۔ کیونکہ راز آشکارا ہونے سے عشق کا کیف و سرور باقی نہیں رہتا ۔

Lest my heart’s passion may softer grow, not to the trusty I’ll tell my woe.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا براه طلب بار در گل است هنوز

که دل به قافله و رخت و منزل است هنوز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 32

اگلی نظم

هوای خانه و منزل ندارم

سر راهم غریب هر دیارم

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 34

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مبارک باد، ماه روزه داران!

بدان مستی فزای هوشیاران!

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1519

همی ریزی به بازی خون یاران

چنین باشد سزایی دوستداران؟

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1613

به باغ آییم فردا جمله یاران

همه یاران همدل همچو باران

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1913

فراق دوستانش باد و یاران

که ما را دور کرد از دوستداران

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 452

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور