شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: لاستهنوز
صنف: غزل/قصیده/قطعه
مرا براه طلب بار در گل است هنوز
که دل به قافله و رخت و منزل است هنوز
ابھی تک راہِ طلب میں میرا بوجھ کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ دل میں طلب تو ہے لیکن سامانِ سفر موجود نہیں ۔ کیونکہ میں تو کارواں ، سامانِ سفر اور منزل کے تصورات میں ہی الجھا ہوا ہوں ۔ حالانکہ منزلِ عشق کے لیے مادی اسباب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔
Upon the road of high desire my load yet lieth in the mire, because my heart would still engage with trappings, caravan, and stage.
کجا ست برق نگاهی که خانمان سوزد
مرا با معامله با کشت و حاصل است هنوز
نگاہِ عشق کی وہ بجلی کہاں ہے جو میرے گھر کے سازو سامان کو جلا کر خاکستر کر دے ۔ میرا معاملہ تو ابھی تک کھیت اور اس کی پیداوار تک محدود ہے ۔ یعنی میں ابھی تک مادی فائدے کے بارے میں سوچ سے باہر نہیں نکل سکا ۔ میری تمنا ہے کہ میرے محبوب کی نگاہِ کرم سے میرے افکار کو نیا رنگ مل جائے ۔
Where is the lightning of the gaze that shall my dwelling burn and raze? Fain would I yet a bargain keep with what men sow, and what men reap.
یکی سفینهٔ این خام را به طوفان ده
ز ترس موج نگاهم بساحل است هنوز
اے خدا! اس ناتجربہ کار ملاح کی کشتی کو ایک بار پھر طوفان کے حوالے کر دے کیونکہ موت کے خوف سے میری نظر ابھی تک ساحل پر جمی ہوئی ہے ۔
O let this layman’s vessel ride upon a full, tempestuous tide: The wave affrighteth me so sore; I fix my gaze upon the shore.
تپیدن و نرسیدن چه عالمی دارد
خوشا کسی که بدنبال محمل است هنوز
راہ عشق میں تڑپتے رہنا اور منزل مقصود تک نہ پہنچنے میں عجیب طرح کی لذت پائی جاتی ہے ۔ وہ شخص بہت خوش نصیب ہے جو جلوہَ محبوب دیکھے بغیر ابھی تک محمل کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہے ۔ یعنی وصل محبوب اس کے شوق اور مہمیز کر رہا ہے ۔
Ah, what adventure is to gain – to quiver, never to attain: Thrice happy he, who even now behind the train doth riding go.
کسی که از دو جهان خویش را برون نشناخت
فریب خوردهٔ این نقش باطل است هنوز
وہ شخص کہ جس نے اپنے آپ کو دونوں جہاں سے برتر نہیں سمجھا ۔ وہ شخص اس جہان فانی کے فریب میں ابھی تک مبتلا ہے یعنی اس فانی دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے ۔
But he who never knew his heart from the two worlds to dwell apart; he still bemused and cheated is by unsubstantial images.
نگاه شوق تسلی به جلوه ئی نشود
کجا برم خلشی را که در دل است هنوز
اے میری نگاہِ شوق ! تیری تسلی محبوب کے ایک جلوہ سے نہیں ہوتی ۔ اب میں اپنے دل کی اس خلش کو کہاں لے جاؤں (جو بار بار محبوب کے جلووَں کے لیے مجھے بیتاب رکھتی ہے) ۔
A single, brief epiphany consoleth not the passionate eye: Where shall I take the wounding dart that pricketh even yet my heart?
حضور یار حکایت دراز تر گردید
چنانکه این همه نا گفته در دل است هنوز
اپنے محبوب کے سامنے میں نے اپنی داستانِ عشق بیان کی تو وہ طویل سے طویل ہوتی چلی گئی، اسکے باوجود میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں نے جو کچھ بھی اپنے محبوب سے کہا وہ بہت کم تھا ۔ کیونکہ میرے دل کی اصل بات تو ابھی تک دل ہی میں ہے ۔
In the glad presence of the friend a history is that hath no end, as still these sorrows yet unsaid lie in my heart deep-buried.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور