شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اختنشرانگرید
صنف: غزل/قصیده/قطعه
بر جهان دل من تاختنش را نگرید
کشتن و سوختن و ساختنش را نگرید
میرے دل کی جہان پر اس کی حملہ آوری کے انداز تو دیکھو ۔ اور مجھے مارنے اور جلانے کے بعد مجھے بنانے اور سنوارنے کا عمل بھی دیکھو ۔ مطلب یہ کہ اس کا مارنا اور جلانا میری بہتری کے لیے ہے ۔
In my heart’s empire, see how He rides spitefully, rides with imperious will to ravage, and to kill!
روشن از پرتو آن ماه دلی نیست که نیست
با هزار آینه پرداختنش را نگرید
اس محبوب کے جلووَں سے کوئی دل روشن نہیں ہے ۔ اس بات سے قطع نظر اس کے ہزاروں آئینوں کے سامنے اپنے تخلیق کے عمل کو بھی دیکھو ۔ اس شعر میں یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ کا نور کائنات کے ذرے ذرے میں موجود ہے ۔
No heart is there, but bright gleameth in that moon’s light; a thousand mirrors, see! reflect His coquetry.
آنکه یکدست برد ملک سلیمانی چند
با فقیران دو جهان باختنش را نگرید
وہ محبوب (خدا) جو ایک اشارے پر حضرت سلیمان کی سلطنت جیسی کئی سلطنتیں اپنے دستِ قدرت میں کر لیتا ہے ۔ اسے فقیروں کے حضور دو جہانوں کو ہارنے یا پیش کرنے کے معاملے کو دیکھو ۔ کہ کس طرح بڑے بڑے جاہ و جلال کے مالک بادشاہ فقیروں کے درباروں میں آ کر سر جھکاتے ہیں ۔
To each hand he hath won ten realms of Solomon, yet gambles with it all to gain a poor, mean thrall.
آنکه شبخون بدل و دیدهٔ دانایان ریخت
پیش نادان سپر انداختنش را نگرید
وہ محبوب جس نے دانش مندوں کے دل اور آنکھ پر شب خون مار کر انہیں بے سروسامان کر دیا ہے اسی محبت کو بے عقلوں یعنی عاشقوں کی بزم میں شکست تسلیم کرتے ہوئے دیکھو ۔ مطلب یہ کہ محبوب کو پانے کے لیے عقل کی نہیں عشق کی ضرورت ہوتی ہے ۔
The hearts of such as know swift He assaults; but lo: Before the unwise, unskilled, He casteth down His shield.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور