صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 31

غزل شمارهٔ 31

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اختنشرانگرید

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بر جهان دل من تاختنش را نگرید

کشتن و سوختن و ساختنش را نگرید

میرے دل کی جہان پر اس کی حملہ آوری کے انداز تو دیکھو ۔ اور مجھے مارنے اور جلانے کے بعد مجھے بنانے اور سنوارنے کا عمل بھی دیکھو ۔ مطلب یہ کہ اس کا مارنا اور جلانا میری بہتری کے لیے ہے ۔

In my heart’s empire, see how He rides spitefully, rides with imperious will to ravage, and to kill!

2

روشن از پرتو آن ماه دلی نیست که نیست

با هزار آینه پرداختنش را نگرید

اس محبوب کے جلووَں سے کوئی دل روشن نہیں ہے ۔ اس بات سے قطع نظر اس کے ہزاروں آئینوں کے سامنے اپنے تخلیق کے عمل کو بھی دیکھو ۔ اس شعر میں یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ کا نور کائنات کے ذرے ذرے میں موجود ہے ۔

No heart is there, but bright gleameth in that moon’s light; a thousand mirrors, see! reflect His coquetry.

3

آنکه یکدست برد ملک سلیمانی چند

با فقیران دو جهان باختنش را نگرید

وہ محبوب (خدا) جو ایک اشارے پر حضرت سلیمان کی سلطنت جیسی کئی سلطنتیں اپنے دستِ قدرت میں کر لیتا ہے ۔ اسے فقیروں کے حضور دو جہانوں کو ہارنے یا پیش کرنے کے معاملے کو دیکھو ۔ کہ کس طرح بڑے بڑے جاہ و جلال کے مالک بادشاہ فقیروں کے درباروں میں آ کر سر جھکاتے ہیں ۔

To each hand he hath won ten realms of Solomon, yet gambles with it all to gain a poor, mean thrall.

4

آنکه شبخون بدل و دیدهٔ دانایان ریخت

پیش نادان سپر انداختنش را نگرید

وہ محبوب جس نے دانش مندوں کے دل اور آنکھ پر شب خون مار کر انہیں بے سروسامان کر دیا ہے اسی محبت کو بے عقلوں یعنی عاشقوں کی بزم میں شکست تسلیم کرتے ہوئے دیکھو ۔ مطلب یہ کہ محبوب کو پانے کے لیے عقل کی نہیں عشق کی ضرورت ہوتی ہے ۔

The hearts of such as know swift He assaults; but lo: Before the unwise, unskilled, He casteth down His shield.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خوشتر ز هزار پارسائی

گامی به طریق آشنائی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 30

اگلی نظم

مرا براه طلب بار در گل است هنوز

که دل به قافله و رخت و منزل است هنوز

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 32

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور