خوشتر ز هزار پارسائی
گامی به طریق آشنائی
ہزار ہا قسم کی نیکی اور پارسائی سے عاشقی کے راستے پر ایک قدم رکھنا بہتر ہے ۔
One step on friendship’s road fairer I see than the moat pressing load of piety.
در سینهٔ من دمی بیاسای
از محنت و کلفت خدائی
اے میرے محبوب تھوڑی دیر کے لیے میرے دل میں آرام کر لے ۔ کیونکہ تجھے اس کائنات کو چلانے کے لیے جو محنت کرنا پڑ رہی ہے وہ خاصی تکلیف دہ ہے ۔
Take for Thy rest awhile this heart of mine and lay aside Thy toil and task divine.
ما را ز مقام ما خبر کن
مائیم کجا و تو کجائی
اے خدا! تو ہمیں ہمارے مقام سے آگاہ کر دے ۔ یعنی ہماری حیثیت کیا ہے اس سے باخبر کر دے ۔ ہم کہاں ہیں اور تو کہاں ہے یعنی بندے اور خدا کے درمیان کیا تعلق ہے
O come; and tidings bring how stands my heart, where I am wandering, and where Thou art.
آن چشمک محرمانه یاد آر
تا کی به تغافل آزمائی
تو اپنی اس راز آشنا آنکھوں کی حرکت کو یاد کر ۔ جس نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا تھا ۔ تو کب تک ہم سے غافل رہے گا ۔ اے خدا تو پھر سے مجھ پر وہی نظر ڈال اور مجھے اپنے راز سے آشنا کر دے ۔
Recall those glances pure of love intense how long must I endure indifference?
دی ماه تمام گفت با من
در ساز به داغ نارسائی
کل چودھویں کے چاند نے مجھ سے کہا کہ ہجر کے داغ سہنے کی عادت ڈال لے کیونکہ عشق میں یہی رویہ بہتر ہے ۔
Last night the burning moon did me address: ‘Accept the anguish, son, of unaccess.’
خوش گفت ولی حرام کردند
در مذهب عاشقان جدائی
اس چاند نے بات تو ٹھیک ہی کی تھی لیکن میں کیا کروں کہ عاشقوں کے مذہب میں جدائی حرام قرار دی گئی ہے ۔
Fair spake she; but, ah yes, my creed of love to live in loneliness doth not approve.
پیش تو نهاده ام دل خویش
شاید که تو این گره گشائی
میں نے تو اپنا دل تیرے حضور پیش کر دیا ہے اس امید پر کہ شاید تو اس دل کی گرہ کھول دے ۔ یعنی اس میں اپنی محبت کا چراغ روشن کر دے ۔
Before thee I have laid this heart of mine; haply the twist thread Thou canst untwine.
زمین
برجه که بهار زد صلایی
در باغ خرام چون صبایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2735
در عشق هر آنک شد فدایی
نبود ز زمین بود سمایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2762
عشق است دلاور و فدایی
تنهارو و فرد و یک قبایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2763
آن شمع چو شد طرب فزایی
پروانه دلان به رقص آیی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2765
ای بیتو محال جان فزایی
وی در دل و جان ما کجایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2766
ساقی انصاف خوش لقایی
از جا رفتم تو از کجایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2768
برخیز و بزن یکی نوایی
بر یاد وصال دلربایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2769
ای قلب و درست را روایی
پیش تو که زفت کیمیایی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2771
ای جان و جهان من کجایی
آخر بر من چرا نیایی
سناییدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 387
ای پیشهٔ تو جفانمایی
در بند چه چیزی و کجایی
سناییدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 392
فارسی متن کا ماخذ: گنجور