صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ اول (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 30

غزل شمارهٔ 30

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: ایی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 13

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

خوشتر ز هزار پارسائی

گامی به طریق آشنائی

ہزار ہا قسم کی نیکی اور پارسائی سے عاشقی کے راستے پر ایک قدم رکھنا بہتر ہے ۔

One step on friendship’s road fairer I see than the moat pressing load of piety.

2

در سینهٔ من دمی بیاسای

از محنت و کلفت خدائی

اے میرے محبوب تھوڑی دیر کے لیے میرے دل میں آرام کر لے ۔ کیونکہ تجھے اس کائنات کو چلانے کے لیے جو محنت کرنا پڑ رہی ہے وہ خاصی تکلیف دہ ہے ۔

Take for Thy rest awhile this heart of mine and lay aside Thy toil and task divine.

3

ما را ز مقام ما خبر کن

مائیم کجا و تو کجائی

اے خدا! تو ہمیں ہمارے مقام سے آگاہ کر دے ۔ یعنی ہماری حیثیت کیا ہے اس سے باخبر کر دے ۔ ہم کہاں ہیں اور تو کہاں ہے یعنی بندے اور خدا کے درمیان کیا تعلق ہے

O come; and tidings bring how stands my heart, where I am wandering, and where Thou art.

4

آن چشمک محرمانه یاد آر

تا کی به تغافل آزمائی

تو اپنی اس راز آشنا آنکھوں کی حرکت کو یاد کر ۔ جس نے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا تھا ۔ تو کب تک ہم سے غافل رہے گا ۔ اے خدا تو پھر سے مجھ پر وہی نظر ڈال اور مجھے اپنے راز سے آشنا کر دے ۔

Recall those glances pure of love intense how long must I endure indifference?

5

دی ماه تمام گفت با من

در ساز به داغ نارسائی

کل چودھویں کے چاند نے مجھ سے کہا کہ ہجر کے داغ سہنے کی عادت ڈال لے کیونکہ عشق میں یہی رویہ بہتر ہے ۔

Last night the burning moon did me address: ‘Accept the anguish, son, of unaccess.’

6

خوش گفت ولی حرام کردند

در مذهب عاشقان جدائی

اس چاند نے بات تو ٹھیک ہی کی تھی لیکن میں کیا کروں کہ عاشقوں کے مذہب میں جدائی حرام قرار دی گئی ہے ۔

Fair spake she; but, ah yes, my creed of love to live in loneliness doth not approve.

7

پیش تو نهاده ام دل خویش

شاید که تو این گره گشائی

میں نے تو اپنا دل تیرے حضور پیش کر دیا ہے اس امید پر کہ شاید تو اس دل کی گرہ کھول دے ۔ یعنی اس میں اپنی محبت کا چراغ روشن کر دے ۔

Before thee I have laid this heart of mine; haply the twist thread Thou canst untwine.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرغ خوش لهجه و شاهین شکاری از تست

زندگی را روش نوری و ناری از تست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 29

اگلی نظم

بر جهان دل من تاختنش را نگرید

کشتن و سوختن و ساختنش را نگرید

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 31

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

برجه که بهار زد صلایی

در باغ خرام چون صبایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2735

در عشق هر آنک شد فدایی

نبود ز زمین بود سمایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2762

عشق است دلاور و فدایی

تنهارو و فرد و یک قبایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2763

آن شمع چو شد طرب فزایی

پروانه دلان به رقص آیی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2765

ای بی‌تو محال جان فزایی

وی در دل و جان ما کجایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2766

ساقی انصاف خوش لقایی

از جا رفتم تو از کجایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2768

برخیز و بزن یکی نوایی

بر یاد وصال دلربایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2769

ای قلب و درست را روایی

پیش تو که زفت کیمیایی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2771

ای جان و جهان من کجایی

آخر بر من چرا نیایی

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 387

ای پیشهٔ تو جفانمایی

در بند چه چیزی و کجایی

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 392

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور